صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 223 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 223

صحیح البخاری جلده ۲۲۳ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير رَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِئَاءً وَنِوَاءً لِأَهْلِ کے لیے یہ وبال ہوں گے تو وہ ایسا شخص ہے جس نے الْإِسْلَامِ فَهِيَ وِزْرٌ عَلَى ذَلِكَ وَسُئِلَ ان کو فخر اور دکھلاوے اور مسلمانوں سے دشمنی کرنے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ کے لئے باندھا ہے۔ وہ ایسے شخص کے لئے وبال ہوں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں الْحُمُرِ فَقَالَ مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيْهَا إِلَّا هَذِهِ کی بابت پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا: مجھ پر ان کے الْآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَةُ فَمَنْ يَعْمَلْ بارے میں سوائے اس ایک جامع آیت کے کوئی وحی مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ نازل نہیں ہوئی۔ یعنی جو ذرہ بھر نیکی کرے گا وہ اس يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ کے ثواب کو حاصل کرے گا اور جو ذرہ بھر بدی کرے گا (الزلزال: ۸-۹) وہ اس کے عذاب کو دیکھ لے گا۔ اطرافه: ٢٣۷۱، ٣٦٤٦، ٤٩٦٢، 4963، 7356۔ باب ٤٩ : مَنْ ضَرَبَ دَابَّةَ غَيْرِهِ فِي الْغَزْوِ جس نے جنگ میں ( جاتے وقت ) کسی دوسرے کے جانور کو مارا ٢٨٦١ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ۲۸۶۱: مسلم ( بن ابراہیم ) نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ قَالَ أَتَيْتُ ابوقيل ( بشير بن عقبہ ) نے ہمیں بتایا کہ ابو المتوکل ناجی جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيَّ فَقُلْتُ لَهُ ( علی بن داؤد ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں حضرت حَدِّثْنِي بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ جابر بن عبداللہ انصاری کے پاس آیا اور ان سے کہا: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَافَرْتُ آپؐ نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم بہ وسلم سے جو بات ات کی ہو بیان کریں۔ حضرت جابر نے کہا: میں ایک سفر میں مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَالَ أَبُو عَقِيلٍ لَا أَدْرِي غَزْوَةً أَمْ عُمْرَةً فَلَمَّا أَنْ أَقْبَلْنَا آپ کے ساتھ تھا۔ ابوتیل (راوی) کہتے تھے: میں نہیں جانتا سفر جنگ کا تھا یا عمرہ کا۔ جب ہم قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مينى۔ بینہ کی طرف) لوٹے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے أَحَبَّ أَنْ يَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ فَلْيُعَجَلْ فرمایا: جو اپنے گھر اپنے گھر والوں کے پاس جلدی جانا چاہتا ہو قَالَ جَابِرٌ فَأَقْبَلْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ لِي وہ جلدی چلا جائے ۔ حضرت جابر کہتے تھے: ( یہ سن کر ) أَرْمَكَ لَيْسَ فِيْهَا شِيَةٌ وَالنَّاسُ خَلْفِي هم ( جلدی) چلے اور میں اپنے ایک اونٹ پر سوار تھا