صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 4
صحيح البخاری جلده م ۵۳ - کتاب الصلح فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا (الحجرات: ١٠) وَالْأَيْدِي وَالنَّعَالِ فَبَلَغَنَا أَنَّهَا أُنْزِلَتْ کے ساتھی بھڑک اُٹھے اور نوبت چھڑیوں، جوتوں اور وَإِنْ طَابِفَتْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا ہاتھا پائی * تک پہنچ گئی۔ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ یہ آیت (اسی واقعہ سے متعلق) نازل ہوئی یعنی اگر مومنوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کی صلح کرا دو۔تشریح: الإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ : بخاری کے بعض نسخوں میں کتاب الصلح کی جگہ ابواب الصلح ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۶۶) صلح سے مراد اصلاح ہے جیسا کہ باب کے عنوان مَا جَاءَ فِي الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ اور محولہ بالا آیت سے ظاہر ہے جس میں عامتہ الناس کی اصلاح کے بارے میں تلقین کی گئی ہے۔كتاب الصلح كى يہ ابتداء كتاب الشهادات کے خاتمہ سے لطیف مناسبت رکھتی ہے۔جس آیت کا حوالہ عنوان باب میں دیا گیا ہے وہ یہ ہے : لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّنْ نَّجُوهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ * وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ) ( النساء: ۱۱۵) یعنی اُن لوگوں کے مشوروں کو مستثنیٰ کر کے جو صدقہ یا نیک بات یا لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے کا حکم دیتے ہیں، ان کے بہت سے مشوروں میں کوئی بھی بھلائی نہیں ہوتی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ایسا کرے گا ہم اُسے جلدی بہت بڑا اجر دیں گے۔صدقہ ہر وہ نیک عمل ہے جو محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جائے۔چنانچہ عدل وانصاف کو بھی صدقہ میں شمار کیا گیا ہے۔(روایت نمبر ۲۷۰۷) خاص معنوں میں اس لفظ کا اطلاق مالی قربانی پر ہوتا ہے اور یہ معروف جامع لفظ ہے جو اُن تمام نیکیوں پر حاوی ہے جن سے مختلف اقوام کی شریعتیں اور مذاہب متفق ہیں اور لفظ اصلاح کا تعلق خرابیوں کی درستی سے ہے۔محولہ بالا آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مشاورتی مجالس کی توجہ زیادہ تر مذکورہ بالا امور کی طرف منعطف ہونی چاہیے اور اس میں مقصود بالذات رضائے الہی ہو نہ نفسانی اغراض کہ وہ اس قدر مخالف سمتوں میں واقع ہیں کہ بجائے اصلاح ان کی کشمکش، باہمی آویزش و تصادم سے نیک مقصد مفقود ہو جاتا ہے اور ان میں موافقت، یکجہتی اور دوام کی صورت پیدا کرنے 0 والا صرف ایک ہی عنصر ہے کہ مذکورہ بالا خدمات مشیت الہی کے تحت ہوں اور استواری حالات ہی مرکزی نقطہ ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ہدایت وضلالت کے درمیان ما بہ الامتیاز کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ حقیقت ان الفاظ میں واضح فرماتا ہے : وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللهُ بِه اَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِى الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ) (البقرة: ۲۷، ۲۸) یعنی قرآن مجید کے ذریعہ فاسقوں ( نافرمانوں ) ہی کو اللہ تعالیٰ گمراہ ٹھہراتا ہے، جو اللہ کا عہد پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اللہ نے جن تعلقات کو جوڑنے کا حکم دیا ہے انہیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں۔وہی درحقیقت نقصان اُٹھانے والے ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ تعلقات قائم کرنے میں فائدہ اور قطع تعلقات میں خسارہ ہے اور ان تعلقات میں سب سے مقدم فتح الباری مطبوعہ بولاق میں یہ الفاظ اس طرح ہیں۔وَ التعالِ وَالايْدِي ( فتح الباری جزء۵ حاشیہ صفحہ ۳۶۶) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔