صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 219
صحيح البخاری جلده ۲۱۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ باپ سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ ہے کے ساتھ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفَ أَبُو قَتَادَةَ (ایک سفر میں ) نکلے اور حضرت ابوقتادہ اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے۔ان کے ساتھی تو احرام مَعَ بَعْضِ أَصْحَابِهِ وَهُمْ مُحْرِمُونَ باندھے ہوئے تھے مگر وہ خود محرم نہ تھے۔ان کے ساتھیوں وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَوْا حِمَارَ وَحْشِ نے ایک گورخر دیکھا پیشتر اس کے کہ حضرت ابو قتادہ قَبْلَ أَنْ يَّرَاهُ فَلَمَّا رَأَوْهُ تَرَكُوهُ اسے دیکھتے۔جب ان کے ساتھیوں نے اسے دیکھا تو حَتَّى رَآهُ أَبُو قَتَادَةَ فَرَكِبَ فَرَسًا اس کی طرف توجہ نہیں کی۔مگر جب حضرت ابو قتادہ نے اسے دیکھا تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گئے جسے جرادہ لَّهُ يُقَالُ لَهُ الْجَرَادَةُ فَسَأَلَهُمْ أَنْ کہتے تھے۔حضرت ابو قتادہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تُنَاوِلُوْهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَتَنَاوَلَهُ فَحَمَلَ ان کا کوڑا تو ان کو دے دیں۔انہوں نے انکار کیا تو فَعَقَرَهُ ثُمَّ أَكَلَ فَأَكَلُوْا فَنَدِمُوْا فَلَمَّا انہوں نے خود ہی لے لیا اور حملہ کر کے اسے شکار کر لیا۔أَدْرَكُوْهُ قَالَ هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ قَالَ حضرت ابو قتادہ نے بھی کھایا اوران کے ساتھیوں نے بھی کھایا اور اس کے بعد وہ آئے اور آنحضرت علی مَعَنَا رِجْلُهُ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ سے ملے تو آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ حضرت ابوقتادہ نے کہا: اس کی ایک ران عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهَا۔ہے تو نبی ﷺ نے وہ لے لی اور اس میں سے کھایا۔اطرافه: ۱۸۲۱، ۱۸۲۲، ۱۸۲۳، ۱۸۲٤، ۲۵۷۰، ۲۹۱۴، ٤١٤۹، 5406، 5407، ٥٤٩١،٥٤٩٠ ٥٤٩٢ ٢٨٥٥: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۲۸۵۵ علی بن عبداللہ بن جعفر نے ہمیں بتایا۔معن ابْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيْسَى بن عیسی نے ہم سے بیان کیا کہ اُبی بن عباس بن سہل حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ نے مجھے بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِهِ قَالَ كَانَ لِلنَّبِيِّ باپ نے ان کے دادا ( حضرت سہل بن سعد ساعدی) صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطِنَا فَرَسٌ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا يُقَالُ لَهُ اللُّحَيْفُ۔ایک گھوڑا ہمارے باغ میں تھا جسے نحیف کہتے تھے۔حمد عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ فَقَدِمُوا ہے۔(عمدۃ القاری جزی۴ صفحہ ۱۴۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔