صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 214 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 214

صحيح البخاری جلده ۳۱ ۵۶- كتاب الجهاد والسير b معانی ہیں اپنے عمل میں حسن پیدا کرنے والا۔اسی طرح کہتے ہیں أَحْسَنَ الْعَمَلَ أَتْقَنَهُ۔یعنی کام میں پختگی پیدا کی۔اعلیٰ درجہ کا عمل کیا۔اس سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ آیت مندرجہ بالا میں اعلیٰ درجہ کے انفاق کی تلقین کی گئی ہے اور یہ آیت قتال کفار سے متعلق ہے۔فرماتا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الذِيْنُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينِ (البقرۃ: ۱۹۴) اور ان سے اس وقت تک لڑو کہ فتنہ مٹ جائے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔اگر وہ ظلم سے باز آجائیں تو پھر ظالموں کے سوا کسی پر حملہ نہ ہو۔اس سیاق کلام کے پیش نظر آیت سے یہ استدلال کرنا کہ خرچ نہ کرو مبادا تمہیں ہلاکت کا سامنا ہو منشائے الہی کے قطعاً خلاف ہے۔ابواب جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کے ضمن میں جس طرح باب ۳۹ میں حضرت ثابت بن قیس کی مثال بطور نمونہ فدائیت پیش کی گئی ہے اسی طرح باب ۴۰ میں مخاطر ہر نفس کی مثال غزوہ خندق کے ایک واقعہ میں دکھائی گئی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے سناٹے میں اور شدید سردی کے وقت دشمن کی خبر لانے کی غرض سے تین دفعہ فرمایا کہ کون یہ کام کرے گا۔ہر دفعہ حضرت زبیر بن العوام نے اپنے آپ کو پیش کیا۔یہ کام سخت خطرہ کا تھا اور وہ معروف شخص تھے۔فوراً پہچانے اور مارے جاسکتے تھے۔دوسرے متطوعين ( Volunteers ) میں سے آپ نے حضرت حذافہ بن یمان کو منتخب فرمایا اور وہ دشمن کے کیمپ کی حالت کا جائزہ لے کر واپس آئے۔ابو سفیان بن حرب قائد کفار اپنے ساتھیوں سے مخاطب تھا کہ جنگ خلاف توقع طول پکڑ گئی ہے، سامان رسد کم ہو گیا ہے۔سردی شدت کی ہے، جانور چارے سے محروم ہیں ،شوال کا مہینہ ختم ہو رہا ہے اور ذوالقعدہ شروع ہو رہا ہے جس میں جنگ جائز نہیں۔یہ مشکلات بیان کر کے اس نے لوٹنے کا فیصلہ کیا۔(عمدۃ القاری جز ۴ صفحه ۱۴۲،۱۴۱) یہ قیمتی معلومات حاصل نہ ہوتیں اگر حضرت حذیفہ بن یمان جرات سے کام نہ لیتے۔فقہاء کے فتویٰ کا تعلق حالات امن سے ہے اور یہ صورت جنگی حالات کی ہے۔امام بخاری نے قواعد جہاد وقتال اس تمہیدی باب نمبرا) کی روشنی میں بیان کیے ہیں جس میں آیت إِنَّ الله اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة: (11) اور ان قواعد کی تائید میں سیرت صحابہ کرام کے واقعات پیش کیے ہیں۔قواعد جنگ میں فوج کا کمانڈر پالیسی طے کرتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر نے غزوہ خندق اور غزوہ بیمامہ میں طے کی۔جہاد کے لیے ہر سچے مومن کی زندگی اور اس کا مال ومتاع فی سبیل اللہ وقف ہوتے ہیں اس لیے سپہ سالار اعلیٰ حسب ضرورت اس سے جیسا مناسب سمجھے کام لے سکتا ہے۔یہ جواب ہے معنونہ استفتاء کا۔اور یہ بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ معاشرہ اسلامیہ میں امام کا وجود لابدی ہے اور اس کا مقام بطور ایک قائد مطاع کے ہے۔(مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار ، حديث حذيفة بن اليمان، جزء ۵ صفحه ۳۹۲)