صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 214
م ۳۱۴ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير صحیح البخاری جلده معانی ہیں اپنے عمل میں ں حُسن پیدا کرنے والا ۔ اسی طرح کہتے ہیں أَحْسَنَ الْعَمَلَ أَتْقَنَهُ ۔ یعنی کام میں پختگی پیدا کی ۔ اعلیٰ درجہ کا عمل کیا۔ اس سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ آیت مندرجہ بالا میں اعلیٰ درجہ کے اتفاق کی تلقین کی گئی ہے اور یہ آیت قتال کفار سے متعلق ہے۔ فرماتا ہے : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوُا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينِ (البقرة: (۱۹۴) اور ان سے اس وقت تک لڑو کہ فتنہ مٹ جائے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے ۔ اگر وہ ظلم - سے باز آجائیں تو پھر پھر خام ظالموں کے سوا کسی پر حملہ نہ ہو۔ اس سیاق کلام کے پیش نظر رایت آیت سے۔ استدلال کرنا کہ خرچ نہ کرو مبادا تمہیں ہلاکت کا سامنا ہو منشائے الہی کے قطعاً خلاف ہے۔ ابواب جہاد بالمال اور جہاد با نفس کے ضمن میں جس طرح باب ۳۹ میں حضرت ثابت بن قیس کی مثال بطور نمونہ فدائیت پیش کی گئی ہے اسی طرح باب ۴۰ میں مخاطرۂ نفس کی مثال غزوہ خندق کے ایک واقعہ میں دکھائی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے سنائے میں اور شدید سردی کے وقت دشمن کی خبر لانے کی غرض سے تین دفعہ فرمایا کہ کون یہ کام کرے گا۔ ہر دفعہ حضرت زبیر بن العوام نے اپنے آپ کو پیش کی پ کو پیش کیا۔ یہ کام سخت خطرہ کا سخت خطرہ کا تھا اور وہ معروف شخص تھے۔ فوراً پہچانے اور مارے جاسکتے تھے۔ دوسرے متطوعين ( Volunteers ) میں سے آپ نے حضرت حذافہ بن یمان کو منتخب فرمایا اور وہ دشمن کے کیمپ کی حالت کا جائزہ لے کر واپس آئے ۔ ابو سفیان بن حرب قائد کفار اپنے ساتھیوں سے مخاطب تھا کہ جنگ خلاف توقع طول پکڑ گئی ہے، سامان رسد کم ہو گیا ہے۔ سردی شدت کی ہے، جانور چارے سے محروم ہیں ، شوال کا مہینہ ختم ہو رہا ہے اور ذوالقعدہ شروع ہو رہا ہے جس میں جنگ جائز نہیں۔ یہ مشکلات بیان کر کے اس نے لوٹنے کا فیصلہ کیا ۔ (عمدۃ القاری ۱۴۰ صفحه ۱۴۲،۱۴۱) یہ قیمتی معلومات حاصل نہ : معلومات حاصل نہ ہوتیں اگر حضرت حذیفہ بن یمان جرات سے کام نہ لیتے ۔ فقہاء کے فتوی کا تعلق حالات امن سے ہے اور یہ صورت جنگی حالات ورت جنگی حالات کی ہے۔ جزء ا امام بخاری نے قواعد جہاد و قتال اس تمہیدی باب ( نمبرا) کی روشنی میں بیان کیے ہیں جس میں آیت اِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة: (۱۱) اور ان قواعد کی تائید میں سیرت صحابہ کرام کے واقعات پیش کیے ہیں ۔ قواعد جنگ میں فوج کا کمانڈر پالیسی طے کرتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے غزوہ خندق اور غزوہ یمامہ میں طے کی۔ جہاد کے لیے ہر سچے مومن کی زندگی اور اس کا مال و متاع فی سبیل اللہ وقف ہوتے ہیں اس لیے سپہ سالار اعلیٰ حسب ضرورت اس سے جیسا مناسب سمجھے کام لے سکتا ہے۔ یہ جواب ہے معنو نہ استفتاء کا۔ اور یہ بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ معاشرہ اسلامیہ میں امام کا وجود لابدی ہے اور اس کا مقام بطور ایک قائد مطاع کے ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند الانصار، حديث حذيفة بن اليمان، جزء ۵ صفحه ۳۹۲)