صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 213
صحيح البخاری جلده ۲۱۳ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير باب ٤١ : هَلْ يُبْعَثُ الطَّلِيْعَةُ وَحْدَهُ کیا اکیلا آدمی بھی بطور ہر اول بھیجا جا سکتا ہے ٢٨٤٧ : حَدَّثَنَا صَدَقَةٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ ۲۸۴۷ : صدقہ ( بن فضل ) نے ہم سے بیان کیا کہ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ (سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ ابن منکدر نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی کریم علی صلى الله عالية نَدَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے لوگوں کو پکارا کہ بنی قریظہ کی خبر ائیں) صدقہ النَّاسَ قَالَ صَدَقَةُ أَظُنُّهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بات غزوہ خندق فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ میں فرمائی تو حضرت زبیر نے اپنے آپ کو اس کام فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ کیلئے پیش کیا۔ پھر آپ نے لوگوں کو پکارا۔ پھر حضرت فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ زبیر نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ پھر آپ نے لوگوں کو پکارا تو پھر حضرت زبیر نے اپنے آپ کو پیش کا کیا۔ نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِي حَوَارِيًّا ا نے فرمایا: ہرنی کا ایک حواری (یعنی مخلص مردگار) وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ۔ صلى الله لرحم ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر بن عوام ہے۔ اطرافه: ۲٨٤٦ ، ۲۹۹۷، ۳۷۱۹، ٤١١٣، ٧٢٦١۔ تشريح : فَضْلُ الطَّلِيْعَةِ : طَلِيعَة کے معانی ہیں ہراول، پیش رو دستہ جو جس اور خ جو تجس اور خبر رسانی کا کام سرانجام دیتا hennen ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحہ (۱۴) باب کا عنوان ایک فتویٰ کے پیش نظر قائم کیا گیا ہے جس کا استدلال آیت وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: ۱۹۶) سے کیا جاتا ہے۔ یعنی اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ بیشک تہور سے بغیر عقل و دانش اور بصیرت کے خطرہ مول لینا جس کا نتیجہ سوائے اپنی جان گنوانے کے اور کچھ نہیں ہوتا ، مذموم ہے۔ لیکن مذکورہ بالا آیت سے تہور کے بارہ میں استدلال درست لال درست نہیں کیونکہ اس سے ماقبل اور مائل اور مابعد حصہ آیت اس استدلال کے خلاف ہے اور اپنا سیاق کلام خود معین کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ: ۱۹۶) یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے تو تمہارا یہ خرچ نہ کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔ ایسا نہ کرو اور اس کے بعد فرماتا ہے وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ اور احسان کرو یعنی خوب خرچ کرو جیسا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حق ہے ) کیونکہ اللہ محسنوں سے محبت رکھتا ہے۔ محسن کے