صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 212
صحيح البخاری جلده ۲۱۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير حضرت خالد بن ولیڈ نے بہت جلد اپنی منتشر فوج جمع کر کے اسے ترتیب دی اور تیسرے حملہ میں دشمن کو شکست فاش ہوئی۔یمامہ کی جنگ کے واقعات اس لحاظ سے نہایت ہی دلچسپ اور سبق آموز ہیں کہ انتہائی مایوس کن حالات کے با وجود صحابہ کرام کے مر مٹنے والے نمونہ ، ثابت قدمی اور نبرد آزمائی نے بار بار کی شکست آخر فتح میں تبدیل کر دی۔اسی روح فدائیت کا ذکر اس روایت میں کیا گیا ہے۔حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے صرف جسم کو حنوط ہی نہیں لگایا بلکہ دو سفید چادر میں بھی بطور کفن پہن لیں۔( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۵) (عمدۃ القاری جز ۱۴ صفحہ ۱۳۹) تفصیل کے لیے دیکھئے تاريخ الطبرى، ذكر بقية خبر مسيلمة الكذاب وقومه من أهل اليمامة، جزء ۲ صفحه ۲۷۵ تا ۲۸۴۔نیز الکامل فی التاریخ، ذكر مسيلمة وأهل اليمامة، جزء ۲ صفحه ۲۱۴ تا ۲۱۹ بئْسَ مَا عَوَّدْتُمُ أَقْرَانَكُمُ : یعنی تم نے اپنی کزوری کی وجہ سے اپنے مد مقابل کو بہت بڑی جرأت دلا دی ہے۔آؤ ہم تمہیں دکھا ئیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنگیں کس طرح کی جاتی تھیں۔چنانچہ حضرت ثابت بن قیس صحابی اسی یمامہ کی لڑائی میں شہید ہوئے۔جذبہ فدائیت کا کیا ہی اعلیٰ نمونہ وہ ہمارے لیے چھوڑ گئے۔رضی اللہ عنہ۔اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ بَاب ٤٠ : فَضْلُ الطَّلِيْعَةِ ہر اول دستہ فوج کی فضیلت ٢٨٤٦: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۲۸۴۶: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (ثوری) سُفْيَانُ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن منکدر سے، محمد بن جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ منکدر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب میں الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا ثُمَّ فرمایا: کون میرے پاس اس قوم کی خبر لائے گا؟ زبیر قَالَ مَنْ يَّأْتِيْنِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ قَالَ الزُّبَيْرُ نے کہا: میں۔پھر آپ نے فرمایا: کون میرے پاس چڑھائی کرنے والی ) قوم کی خبر لائے گا؟ زبیر نے کہا: أَنَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ میں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ایک نبی کا ایک لِكُلِّ نَبِي حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ۔حواری یعنی سچا مددگار ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔اطرافه ،۲۸۴۷، ۲۹۹۷، ۳۷۱۹، ٤١١٣، ٧٢٦١۔