صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 211 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 211

صحيح البخاری جلده ۲۱۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير وَقَدْ حَسَرَ عَنْ فَخِذَيْهِ وَهُوَ يَتَحَنَّطُ حضرت ثابت نے اپنی رانوں سے کپڑا ہٹایا ہوا تھا اور فَقَالَ يَا عَمِّ مَا يَحْبِسُكَ أَنْ لَّا تَجِيءَ وہ حنوط لگارہے تھے۔ انہوں نے کہا: چاکس بات نے قَالَ الْآنَ يَا ابْنَ أَخِي وَجَعَلَ يَتَحَنَّطُ آپ کو روک رکھا ہے کہ نہیں آتے؟ انہوں نے کہا: آتا ہوں اور وہ حنوط لگانے لگے۔ یعنی يَعْنِي مِنَ الْحَنُوطِ ثُمَّ جَاءَ فَجَلَسَ میرے بھتیجے بھی آتا ہوں او وہ خوشبو جو مردوں کو لگائی جاتی ہے۔ پھر وہ آئے اور فَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ انْكِشَافًا مِّنَ بیٹھ گئے ۔ حضرت انس نے اس حدیث میں بیان کیا النَّاسِ فَقَالَ هَكَذَا عَنْ وُجُوهِنَا حَتَّى ہے کہ لوگوں کی طرف سے جنگ میں کچھ کمزوری کا نُضَارِبَ الْقَوْمَ مَا هَكَذَا كُنَّا نَفْعَلُ مَعَ اظہار ہوا اور وہ پسپا ہونے لگے تو حضرت ثابت نے کہا: رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہمارے سامنے سے ہٹ جاؤ کہ ہم ان لوگوں کا مقابلہ بِئْسَ مَا عَوَّدْتُمْ أَقْرَانَكُمْ۔ رَوَاهُ حَمَّادٌ کریں ۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو کر اس طرح نہیں لڑا کرتے تھے۔ تم نے اپنے مد مقابل کے لوگوں عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ۔ کی عادت کیسی بگاڑ دی ہے۔ اس حدیث کو حماد نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس سے روایت کیا۔ تشريح : التَّحَنَّطُ عِنْدَ الْقِتَالِ: حَنوط کے استعمال کی بحث کے لئے دیکھے کتاب الجنائز باب ۲۰۔ یہاں حنوط کے استعمال کے جواز یا عدم جواز کے متعلق بحث نہیں بلکہ اس باب میں لڑائی کے لئے صحابہ کی تیاری کا نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں یمامہ کی جنگ ہوئی ۔ اس جنگ کا تعلق مرتدین کی فتنہ انگیزی سے تھا جو قبیلہ بنی تغلب کی سجاح ل سجاح نامی عورت مدعیہ نبوت نے برپا کی تھی۔ وہ اور مسیلمہ کذاب جو قبیلہ بنو حنیفہ میں سے تھا، سے دونوں متحد ہو کر ایک لشکر جرار جمع کر کے مسلمانوں کے ساتھ نبرد آزما ہے ساتھ نبرد آزما ہوئے۔ اسلامی لشکر سے شدید مقابلہ کیا جس اسلامی لشکر کے پاؤں اکھڑ گئے ۔ حضرت ابوبکر کو جنگی نزاکت کا علم ہوا۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ تھے۔ انہوں نے اس نازک موقع پر ایک قابل اور کار آزما سپہ سالار کی نگاہ بصیرت اور قدرت عمل سے کام لیا اور عکرمہ اور شرحبیل کو عمان کی طرف فوراً پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ انہوں کہلا بھیجا کہ حضرت خالد بن ولید کا وہاں انتظار کیا جائے۔ مدینہ منورہ سے ایک کمک بھیجی جس میں کار آزمودہ صحابہ بھی بطور متطوعین شامل ہوئے۔ ان میں جلیل القدر صحابی حضرت ثابت بن قیس ، حضرت حضرت عمرؓ کے بھائی بھائی حضرت حضرت زید بن خطاب خطاب ، حضرت ابو حذیفہ ریفہ اور اور حضرت حضر سالم مولی ابی حذیفہ بھی تھے۔ عمان میں زیر قیادت حضرت خالد بن ولیڈ ایک فوج تیار ہوئی اور یمامہ کی طرف بڑھی جہاں مسیلمہ کذاب کی چھاؤنی تھی۔ مسیلمہ اور سجاح کا لشکر چالیس ہزار کے لگ بھگ تھا۔ پہلے ہی حملہ میں اسلامی فوج کے پاؤں اکھڑ گئے۔ لیکن