صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 210
صحيح البخاری جلده ۲۱۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عَلَى أَزْوَاجِهِ فَقِيْلَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: مجھے اس پر رحم آتا ہے۔اس کا بھائی (حرام بن ملحان ) میری أَرْحَمُهَا قُتِلَ أَخُوْهَا مَعِي۔معیت میں مارا گیا۔( تشریح: متعلق مخصوص مالی قربانی کا ذکر ہے اور مزید تشریح ہے باب اس کی جس میں مجاہدین اور قاعدین اور ان کے اوصاف کا مجمل بیان ہوا ہے کہ اول الذکر جماعت کو ان کی قربانی کی وجہ سے دوسروں پر فضیلت ہے۔جس طرح قوم کے فَضْلُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ : ان دونوں ابواب ( نمبر ۳۷، ۳۸) میں بھی جہاد فی سبیل اللہ سے سارے افراد جہاد کے لئے مخاطب اور مکلف ہیں کہ وہ اپنے اپنے طریق سے حسب استطاعت اس فریضہ مقدسہ میں شریک ہوں اسی طرح مجاہد کا سارا وجود ہی اپنے تمام قومی کے ساتھ وقف فی سبیل اللہ ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے اسے مذکورۃ الصدر ثواب حاصل ہے اور اس کی فضیلتوں میں سے وہ دنیوی برکات بھی ہیں جو مجاہدین کی جدوجہد کے نتیجہ میں قوم کو حاصل ہوتی ہیں۔دَعَاهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ كُلُّ خَزَنَةِ بَاب : اس سے یہ مراد ہے کہ مِنْ أَيِّ بَابٍ شِئْتَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ اس کے لئے جنت کے سارے دروازے کھلے ہوں گے۔جہاں سے چاہے داخل ہو۔زوج کا لفظ ایک چیز پر بھی دلالت پاتا ہے اور دو پر بھی۔یہاں ہر نوع اشیاء کی قربانی مراد ہے جو مجاہد کو کرنی پڑتی ہے۔قُل - یا فلان کا مخفف ہے۔روایت نمبر ۴۲ ۲۸ کی مزید تشریح کے لیے دیکھئے کتاب الزكاة، باب ۴۷ ، روایت نمبر ۱۳۶۵۔باب ۳۸ کے عنوان سے دونوں روایتوں کا مفہوم معین کیا گیا ہے کہ مذکور الصدر انفاق ( خرچ ) کا تعلق جہاد سے ہے۔باب کی مطابقت اس طور پر ہے کہ حضرت حرام بن ملحان اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر بار اور عزیز و اقرباء کی خبر رکھی۔بَابِ ۳۹ : التَّحَنُّطُ عِنْدَ الْقِتَالِ لڑنے کے وقت خوشبو لگانا شد ٢٨٤٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۲۸۴۵ : عبد اللہ بن عبدالوہاب نے ہمیں بتایا کہ خالد عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ (عبد اللہ ) بن عون الْحَارِثِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُّوْسَی نے ہمیں بتایا۔موسیٰ بن انس سے روایت ہے۔وہ یمامہ ابْنِ أَنَسٍ قَالَ وَذَكَرَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ قَالَ کی جنگ کا ذکر کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ حضرت أَتَى أَنَسُ بْنُ مَالِكِ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ انس بن مالک حضرت ثابت بن قیس کے پاس آئے۔