صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 3 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 3

صحيح البخاری جلده ۵۳ - کتاب الصلح لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا الْتَفَتَ يَا أَبَا بَكْرِ پیش آئے تو چاہیے کہ وہ سبحان اللہ کہے۔پھر جو کوئی مَا مَنَعَكَ حِيْنَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ لَمْ تُصَلِّ اُسے سنے گا ضرور متوجہ ہوگا۔ابوبکر ! جب میں نے آپ کو اشارہ کیا تھا تو آپ کو کونسی بات مانع ہوئی کہ بِالنَّاسِ؟ فَقَالَ : مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ لوگوں کو نماز نہیں پڑھائی ؟ انہوں نے کہا: ابو قحافہ کے أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِي بے کو شایان نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔(کھڑا) ہو کر نماز پڑھائے۔اطرافه: ٦٨٤، ۱۲۰۱ ، ۱۲۰٤، ۱۲۱۸، ۱۲۳۴، ۲۶۹۳، ۷۱۹۰- ٢٦٩١: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۲۶۹۱ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر نے مُعْتَمِرٌ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي أَنَّ أَنَسًا ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قِيْلَ لِلنَّبِيِّ سنا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَتَيْتَ عَبْدَ اللَّهِ علیہ وسلم سے کہا گیا: اگر آپ عبداللہ بن ابی کے پاس ابْنَ أُبَيَ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ آئیں (تو اچھا ہو۔) نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ حِمَارًا فَانْطَلَقَ پاس جانے کے لئے روانہ ہوئے۔گدھا آپ کی الْمُسْلِمُوْنَ يَمْشُونَ مَعَهُ وَهِيَ أَرْضٌ سواری میں تھا۔مسلمان بھی آپ کے ساتھ چل سَخَةٌ فَلَمَّا أَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پڑے اور وہاں کی زمین شوریدہ تھی۔جب نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ قَالَ إِلَيْكَ عَنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ آذَانِي عَلیہ وسلم اُس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا: مجھ سے دور رہیں۔بخدا! آپ کے گدھے کی بدبو نے مجھے نَتَنُ حِمَارِكَ۔فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ تکلیف دی ہے۔تو صحابہ میں سے ایک انصاری حضرت عبداللہ بن رواحہ) بولے: بخدا! رسول اللہ مِنْهُمْ: وَاللَّهِ لَحِمَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْيَبُ رِيحًا ل کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے۔عبداللہ مِنْكَ۔فَغَضِبَ لِعَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ( بن ابی) کی قوم میں سے ایک شخص اس کی وجہ سے فَشَتَمَا فَغَضِبَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا غصہ میں بھر گیا اور اُن دونوں نے آپس میں ایک أَصْحَابُهُ فَكَانَ بَيْنَهُمَا ضَرْبٌ بِالْجَرِيْدِ دوسرے کو سخت سست کہا۔جس کی وجہ سے دونوں