صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 209
صحيح البخاری جلده ۲۰۹ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير وَالْمَسَاكِيْنِ وَمَنْ لَّمْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ میں اور یتیموں اور مسکینوں کے لئے خرچ کر دیا اور فَهُوَ كَالْآكِلِ الَّذِي لَا يَشْبَعُ وَيَكُونُ جس نے اس کو اس کے صحیح طریقہ سے نہ لیا تو وہ اس عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ اطرافه ٩٢۱، ١٤٦٥، ٦٤٢٧۔ ( بیمار ) پیٹو کھانے والے کی طرح ہے جو سیر نہیں ہوتا اور وہ مال اس کے خلاف قیامت کے دن گواہ ہوگا۔ بَاب ۳۸ : فَضْلُ مَنْ جَهَّزَغَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ بِخَيْرٍ اس شخص کی فضیلت کے بیان میں ) جس نے کسی غازی کو ساز وسامان کے ساتھ تیار کیا یا اس کے بعد اس کی بہترین جانشینی کی ٢٨٤٣ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۲۸۴۳ ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ قَالَ نے ہمیں بتایا کہ حسین ( بن ذکوان ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ کیا۔ انہوں نے کہا: بچی ( بن ابی کثیر ) نے مجھ سے قَالَ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ بیان کیا، کہا: ابوسلمہ نے مجھ سے بیان کیا۔ انہوں نے بسر بن سعید نے مجھ سے بیان کیا، کہا: حضرت حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کہا کہ برین زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَم صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: جس نے اللہ کی اہمیں کسی قَالَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَقَدْ غازی کو ساز و سامان سے تیار کیا تو گویا خود ہی جنگ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي سَبِيْلِ اللهِ کے لئے نکلا اور جس شخص نے اللہ کی راہ میں کسی غازی کی اچھی جانشینی کی تو گویا وہ خود بھی جنگ کے لئے نکلا۔ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا ۔ ٢٨٤٤ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۲۸۴۴: موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ہمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسحق بن عبداللہ سے، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ الحق نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ في صلى اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی گھر نہیں جایا کرتے بَيْتًا بِالْمَدِينَةِ غَيْرَ بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ إِلَّا ھے سوائے اُم سلیم کے یا اپنی ازواج کے گھر کے۔