صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 208
صحيح البخاري۔جلده ۲۰۸ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير رَضِيَ ا اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا: میں اپنے پیچھے إِنَّمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي جس بات سے تمہارے لئے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ زمین کی برکتیں تمہارے لئے کھول دی جائیں گی۔مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَرَكَاتِ الْأَرْضِ ثُمَّ ذَكَرَ زَهْرَةَ الدُّنْيَا فَبَدَأَ پھر آپ نے دنیا کی آرائش کا بیان کیا۔آپ نے ایک بات بیان کی اور پھر دوسری۔اس پر ایک آدمی بِإِحْدَاهُمَا وَثَنَّى بِالْأُخْرَى فَقَامَ رَجُلٌ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! کیا خیر شر لے کر فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ آئے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، اُسے بِالشَّرِ فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله جواب نہ دیا۔ہم سمجھے کہ آپ کو وحی ہو رہی ہے اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا يُوْحَى إِلَيْهِ وَسَكَتَ يُوْحَى إِلَيْهِ وَسَكَتَ لوگ ساکت رہے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔پھر آپ نے اپنے چہرہ سے پسینہ پونچھا النَّاسُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرَ ثُمَّ اور فرمایا: کہاں ہے وہ شخص جو ابھی پوچھ رہا تھا إِنَّهُ مَسَحَ عَنْ وَجْهِهِ الرُّحَضَاءَ فَقَالَ ) کہ کیا خیر بھی شر لائے گا؟) حضور نے تین دفعہ یہ أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا أَوَخَيْرٌ هُوَ ثَلَاثًا إِنَّ فرمایا: (پھر فرمایا: ) بھلائی تو بھلائی ہی کو لاتی ہے مگر الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِالْخَيْرِ وَإِنَّهُ كُلُّ مَا یہ تو دیکھو کہ جب موسم بہار میں گھاس اُگتی ہے تو وہ يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ اس (جانور) کو مار ڈالتی ہے یا مرنے کے قریب {إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ } أَكَلَتْ حَتَّى کر دیتی ہے جسے کھانے سے اپھارہ ہو جاتا ہے۔مگر امْتَدَّتْ خَاصِرَنَاهَا اسْتَقْبَلَتِ وه (جانور) جو ہری گھاس کھاتا ہے اور جب اس کی دونوں کو کھیں بھر جاتی ہیں تو وہ سورج کے سامنے جا الشَّمْسَ فَتَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ رَتَعَتْ کھڑا ہوتا ہے اور بول و براز کرتا ہے۔پھر چہرتا پھرتا وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَنِعْمَ ہے تو وہ بچ جاتا ہے) دیکھو یہ مال بھی ہرا بھرا اور صَاحِبُ الْمُسْلِمِ لِمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بیٹھا ہے اور مسلمان کا اچھا رفیق ہے خصوصاً اس کا فَجَعَلَهُ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَالْيَتَامَى جس نے اس کو جائز طریق سے لیا اور اسے اللہ کی راہ مد فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ الفاظ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ ہیں۔(فتح الباری جزء ۱ حاشیہ صفحہ ۶۰)