صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 207 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 207

صحیح البخاری جلده ٢٠٧ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير گزر چکا ہے۔ جہاد بالنفس میں ایسا روزہ بھی شامل ہے جس میں مجاہد خوراک نہ ملنے کی وجہ سے صائم ہو۔ اس مجاہد صائم کے ثواب کا ذکر حدیث مندرجہ بالا میں ہے۔ جیسا کہ حضرت امام بخاری نے عنوانِ باب کے الفاظ فِي سَبِيلِ اللہ سے یہ فضیلت مقید کی ہے۔ سَبْعِينَ خَرِيفًا: خریف سے مراد فصل خریف نہیں بلکہ سال مراد ہیں۔ سال چار موسموں میں منقسم ہیں۔ صیف، شتاء، ربیع اور خریف عربستان میں خریف پھل پکنے کا موسم ہے اس لئے وہ بہترین موسم سمجھا جاتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۰ ) بَاب ۳۷ : فَضْلُ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت ٢٨٤١ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ۲۸۴۱: سعد بن حفص نے مجھ سے بیان کیا کہ شیبان حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ( بن عبد الرحمن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحی أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ ( بن ابی کثیر ) سے کچی نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَاهُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: جس نے ایک جوڑا اللہ کی راہ میں (کسی چیز کا ) خَزَنَةُ الْجَنَّةِ كُلُّ خَزَنَةِ بَابٍ أَيْ قُلُ خرچ کیا تو جنت کے محافظ اس کو بلائیں گے۔ ہر دروازہ هَلُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَاكَ کا محافظ کہے گا: اے فلاں ! ادھر سے آؤ، ادھر سے آؤ۔ الَّذِي لَا تَوَى عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ حضرت ابو بکر نے کہا: یا رسول اللہ ! شخص تو کسی بھی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ دروازے سے جائے ، اسے کوئی نقصان نہیں۔ نبی تَكُوْنَ مِنْهُمْ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ضرور امید کرتا ہوں کہ آپ بھی ان میں سے ہوں گے۔ اطرافه ١۸۹۷، ٣٢١٦، ٣٦٦٦۔ ٢٨٤٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ۲۸۴۲: محمد بن سنان نے ہمیں بتایا کہ فلیح نے ہم سے حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عَطَاءِ بیان کیا کہ ہلال نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء بن ابْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ پیارے ، عطاء نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ