صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 206 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 206

صحيح البخاری جلده ۲۰۶ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير مجاہدین صحابہ کا اسوہ حسنہ مذکور ہے اور اس باب میں قاعدین یعنی معذور صحابہ کی حالت کا ذکر ہے کہ وہ مضطر باند دعاؤں میں مشغول ہونے کی وجہ سے مجاہدین ہی کی صفوں میں سے ہوتے ہیں۔اس طرح گویا قوم کے سارے افراد ہی جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف ہو چکے تھے۔وہ جنگ جس میں سارے ملک کے افراد ایک قیادت کے تحت شامل ہوں ایسی جنگ صحابہ کرام نے مع سارے افراد قوم کے بطیب خاطر لڑی۔مگر مظلوم ہونے کی حالت میں نہ کہ ہوس ملک گیری میں۔جیسا کہ اس شعر سے واضح ہوتا ہے: إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوُا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةٌ أَبَيْنَا انہوں نے ہم پر ظلم کئے اور جب بھی فتنہ بپا کرنا چاہا ہم انکار کرتے رہے۔ذکر الأوَّلُ أَصحُ : پہلی سند اس لئے زیادہ صحیح ہے کہ اس میں حضرت انس سے سماعت کا صراحت کے ساتھ ذکر ہے۔بَاب :٣٦ : فَضْلُ الصَّوْمِ فِي سَبِيْلِ اللہ کی راہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت ٢٨٤٠ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ :۲۸۴۰ آلحق بن نصر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عبدالرزاق نے ہمیں بتایا۔ابن جریج نے ہمیں قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَسُهَيْلُ خبر دی۔کہا کہ یحیی بن سعید اور سہیل بن ابی صالح نے ابْنُ أَبِي صَالِحٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ مجھے بتایا۔ان دونوں نے نعمان بن ابی عیاش سے سنا۔وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ابْنَ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ روایت کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا۔اللہ تعالیٰ اس کے منہ کو ( دوزخ کی آگ سے ستر برس کی مسافت الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ بَعْدَ الله وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِيْنَ خَرِيْفًا۔تک دور رکھے گا۔تشریح:۔٤٠٠۔فَضْلُ الصَّوْمِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ : اس باب میں یہ مسئلہ زیر بحث نہیں کہ روزہ جہاد میں رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اس کا ذکر تو کتاب الصیام میں گذر چکا ہے۔(دیکھئے باب ۳۶،۳۵، ۳۷) نیز اس تعلق میں کتاب الجہاد باب ۲۹ بھی دیکھئے۔یہاں اس مجاہد کی فضیلت کا ذکر ہے جسے بعض اوقات خوراک نہ ملنے کی وجہ سے بھوکا رہنا پڑتا ہے۔گویا وہ اس حالت میں صائم ہے۔اسی کتاب کے باب ۲ ، باب ۳۱ میں جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کا ذکر