صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 205
صحيح البخاری جلده ۲۰۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ٣٥ : مَنْ حَبَسَهُ الْعُذْرُ عَنِ الْغَزْوِ جس کو کسی عذر نے جنگ میں جانے سے روک رکھا ہو ۲۸۳۸ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۲۸۳۸ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ أَنَّ أَنَسًا نے ہمیں بتایا، (کہا: ) محمید نے ہمیں بتایا۔ حضرت حَدَّثَهُمْ قَالَ رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ مَعَ انس نے ان سے بیان کیا، کہا: ہم تبوک کی لڑائی سے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس لوٹے۔ اطرافه: ٢٨٣٩، ٤٤٢٣ ۲۸۳۹ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ :۲۸۳۹ : سليمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمید سے۔ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ حمید نے حضرت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزَاةٍ في صلى اللہ علیہ وسلم ایک جنگ میں تھے۔ آپ نے فَقَالَ إِنَّ أَقْوَامًا بِالْمَدِينَةِ خَلْفَنَا مَا فرمایا : ہمارے پیچھے مدینہ میں کچھ لوگ ہیں۔ ہم جب سَلَكْنَا شِعْبًا وَلَا وَادِيًا إِلَّا وَهُمْ مَعَنَا کسی گھائی اور وادی میں چلتے ہیں تو وہ بھی اس میں فِيْهِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ۔ وَقَالَ مُوسَى ہمارے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ ان کو معذوری نے حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ مُوسَى (جہاد سے) روک رکھا ہے۔ اور موسیٰ ( بن اسمعیل ) نے یوں کہا: حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمید سے، ابْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ محمید نے موسیٰ بن انس سے، موسیٰ نے اپنے باپ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَوَّلُ أَصَح۔ اطرافه: ٢٨٣٨، ٤٤٢٣ روایت کی کہ (انہوں نے کہا: ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایسا ہی) فرمایا: (آخر حدیث تک ) ابو عبد الله امام بخاری ) نے کہا: پہلی سند زیادہ صحیح ہے۔ تشريح : مَنْ حَبَسَهُ الْعُذْرُ عَنِ الْغَزْوِ : باب اس میں جس آیت کا حوالہ دینے کے بعد یہ ابواب قائم کئے گئے ہیں ان میں د میں دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہے۔ مجاہدیں کا ذکر ہے۔ مجاہدین کا اور قاعدین کا۔ پہلے دو ابواب ( نمبر ۳۳ ۳۴) میں