صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 204
صحيح البخاری جلده م ۲۰ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير فَأَنْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَا ہم پر سکینت نازل فرما اور اگر دشمن سے بھاری وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَا قَيْنَا مقابلہ ہو جائے تو ہمارے قدم مضبوط رکھ ۔ انہوں إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا نے ہم پر ظلم کیا ہے جب کبھی وہ کسی فتنے کا ارادہ إِذَا أَرَادُوْا فِتْنَةً أَبَيْنَا کرتے ہیں تو ہم اس کا انکار ہی کرتے رہے ہیں اطرافه: ٢٨٣٦، 3034، 4104 ، 4106، ٦٦٢٠، ٧٢٣٦۔ تشريح : التَّحْرِيضُ عَلَى الْقِتَالِ : ان دو ابواب میں بی ایسے وسائل کا بیان ہے جن کے ذریعہ جہاد سے متعلقہ صفات جرات اور صبر و استقلال وغیرہ پیدا کی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے ایک ذریعہ ترغیب و تحریص ////// ہے اور دوسرا ذریعہ کار ہائے نمایاں کا ذکر و اذکار اور میدانِ جنگ میں ولولہ انگیز رجز خوانی ہے جس سے نفوس میں جوش و خروش پیدا ہوتا ہے۔ تیسرا ذریعہ قائد حرب کا عملی نمونہ ہے۔ عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ * إِنْ يَكُنُ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَبِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ، وَإِنْ يَكُنُ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا الْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ السَّنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمُ ضَعْفًا فَإِنْ يَكُنُ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنُ مِنْكُمُ الْفٌ يَغْلِبُوا الْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّبِرِينَ ) (الأنفال : ۶۶-۶۷) اے نبی ! مومنوں کو (کافروں سے) لڑنے کی بار بار زور سے تحریک کرتارہ۔ اگر تم میں سے ہیں ثابت قدم مومن ہوں گے تو وہ دوسو پر غالب آجائیں گے اور اگر سو ہوں گے تو وہ تو وہ دوسو پر غالب آجائیں گے اور اگر سو ہوں گے تو وہ ایک ہزار پر غالب آجائیں گے۔ کیونکہ ( مقابلہ کرنے والے ) ایسی قوم ہیں جو رم ہیں جو سمجھتے نہیں۔ ابھی اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کر دیا ہے اور اسے علم ہے کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ پھر اگر تم میں سے سو ثابت قدم مومن ہوں تو دوسو پر غالب آج غالب آجائیں گے اور اگر ہزار ہوں تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب ہوں گے اور اللہ مستقل مزاج لوگوں کے ساتھ ہے۔ صلى الله لفظ تحریض اور تحریص میں یہ فرق ہے کہ اول الذکر کا استعمال ایسی ترغیب پر ہوتا ہے جس میں تکرار ہو، جذبات اُبھریں اور ہمتیں بلند ہوں۔ اس کا ایک نمونہ رسول اللہ علیہ الله اللہ کی رجز خوانی میں بتایا گیا ہے کہ پلک جھپکتے لڑائی کا پانسہ بدل گیا۔ ( باب ۹۷) اور دوسرا نمونہ ان ابواب میں مذکور ہے۔ دشمن کے پہنچنے سے قبل مدینہ کے خالی اطراف میں بڑی سرعت سے متعدد خندقیں تیار کر لی گئیں ۔ ان میں سے شمالی جانب کی ایک خندق ساڑھے تین میل لمبی تھی جو صرف تین ہفتوں میں مکمل کی گئی اور آنحضرت علی کی تحریض ہی کا نتیجہ تھا کہ انتہائی نامساعد حالات میں ڈیڑھ دو ہزار اسلامی لشکر نے ٹڈی دل احزاب ر اسلامی لشکر نے ٹڈی دل احزاب کا کم و بیش ایک ماہ تک ڈٹ کر کامیاب مقابلہ کیا۔ یہاں تک کہ دشمن کی کمر ہمت ٹوٹ گئی اور آخر وہ اپنا حصار توڑنے پر مجبور ہوا۔ صحابہ کرام کی بلند ہمتوں کے پیچھے نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ کار فرما تھا جس کا نمونہ روایت نمبر ۲۸۳۶، ۲۸۳۷ میں دکھایا گیا ہے کہ کدال ہاتھ میں ہے اور مٹی کا بوجھ سر پر غبار آلودہ جسم اور خدا تعالیٰ کے حضور یہ الفاظ زبان پر " إِنَّ الألى قَدْ بَغَوُا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا" یہ الفاظ سن کر اور یہ نظارہ دیکھ کر عاشقان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حال کا تصور تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس کا بیان ممکن نہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب المغازی، باب ۲۹۔