صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 201 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 201

صحیح البخاری جلده ۲۰۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ۳۲ : الصَّبْرُ عِنْدَ الْقِتَالِ لڑائی کے وقت استقلال سے کام لینا ۲۸۳۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۲۸۳۳: عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیا سے بیان کیا کہ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا معاویہ بن عمرو نے ہمیں بتایا کہ ابو الحق نے ہمیں بتایا۔ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے سالم ابونضر عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی نے ابْنَ أَبِي أَوْفَى كَتَبَ فَقَرَأْتُهُ إِنَّ (عمر بن عبید اللہ کو خط لکھا اور میں نے اس کو پڑھا۔ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (اس میں یہ لکھا تھا کہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم ان ( کافروں) سے مقابلہ کرو تو قَالَ إِذَا لَقِيْتُمُوْهُمْ فَاصْبِرُوا۔ ڈٹ کر استقلال سے مقابلہ کرو۔ إطرافه: ۲۸۱۸، ٢٩٦٦، ٠٢٤، ٧٢٣٧۔ تشریح : الصَّبْرُ عِندَ الْقِتَالِ پخته عزم و استقلال، صبر وثبات اور جرات وثبات اقدام ان اہم صفات میں سے ہیں جن پر ایک مجاہد کی کامیابی کا انحصار ہے۔ ان صفات کے بغیر جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ اس تعلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمُ تُفْلِحُونَ ) (الأنفال: ۴۶) یعنی اے مومنو! جب تم کسی فوج کے مقابل پر آؤ تو قدم جمائے رکھو اور اللہ کو بہت یاد کیا کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ باب ۳۳ : التَّحْرِيضُ عَلَى الْقِتَالِ لڑائی کی ترغیب دینا وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: حَرِّضِ اور اللہ عز وجل کا یہ فرمانا: اے نبی ! مومنوں کو لڑائی کی ط الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ۔ (الأنفال: ٦٦) ترغیب دلاتے رہو۔ ٢٨٣٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۸۳۴ : عبداللہ بن محمد (مسندی ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو کیا کہ معاویہ بن عمرو نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) إِسْحَاقَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ابو الحق نے ہمیں بتایا کہ حمید سے روایت ہے۔ انہوں