صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 201
صحیح البخاری جلد۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير باب ۳۲ : الصَّبْرُ عِنْدَ الْقِتَالِ لڑائی کے وقت استقلال سے کام لینا ۲۸۳۳: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ :۲۸۳۳ عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا معاویہ بن عمرو نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحق نے ہمیں بتایا۔أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ مُوْسَى بْن عُقْبَةَ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے سالم ابونضر عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفی نے ابْنَ أَبِي أَوْفَى كَتَبَ فَقَرَأْتُهُ إِنَّ عمربن عبید اللہ کو خط لکھا اور میں نے اس کو پڑھا۔اس میں یہ لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جب تم ان ( کافروں) سے مقابلہ کرو تو قَالَ إِذَا لَقِيْتُمُوْهُمْ فَاصْبِرُوا۔ڈٹ کر استقلال سے مقابلہ کرو۔اطرافه: ۲۸۱۸، ٢٩٦٦، ٣٠٢٤ ٧٢٣٧۔الصَّبْرُ۔تشریح: میں سے ہیں جن پر ایک مجاہد کی کامیابی کا انحصار ہے۔ان صفات کے بغیر جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔اس تعلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) ( الأنفال:٤٦) یعنی اے مومنو! جب تم کسی فوج کے مقابل پر آؤ تو قدم جمائے رکھو اور اللہ کو بہت یادکیا کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔عِندَ الْقِتَالَ : پختہ عزم و استقلال، صبر و ثبات اور جرات و ثبات اقدام ان اہم صفات باب ۳۳ : التَّحْرِيْضُ عَلَى الْقِتَالِ لڑائی کی ترغیب دینا وَقَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: حَرِّضِ اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانا: اے نبی ! مومنوں کو لڑائی کی الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ۔(الأنفال: ٦٦) ترغیب دلاتے رہو۔٢٨٣٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۲۸۳۴: عبد اللہ بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو کیا کہ معاویہ بن عمرو نے ہمیں بتایا۔( انہوں نے کہا :) إِسْحَاقَ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ابو اسحق نے ہمیں بتایا کہ حمید سے روایت ہے۔انہوں