صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 200
صحيح البخاری جلده ۲۰۰ ۵۲ - كتاب الجهاد والسير فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رَسُولِهِ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی نازل کی اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذُهُ عَلَی آپ کی ران میری ران پر تھی تو وہ اتنی بو جھل ہو گئی فَخِذِي فَثَقُلَتْ عَلَيَّ حَتَّى خِفْتُ أَنْ جس سے مجھے ڈر ہو گیا کہ میری ران ٹوٹ جائے تُرَضٌ فَخِذِي ثُمَّ سُرِيَ عَنْهُ فَأَنْزَلَ الله گی۔پھر یہ حالت ختم ہوگئی اور اللہ عز وجل نے یہ وحی عَزَّوَجَلَّ غَيْرُ أُولِى الضَّرَرِ نازل کی: غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ - طرفه: ٤٥٩٢۔تشریح: (النساء: ٩٦) لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ أُولِى الضَّرَرِ : عنوان باب جس آیت سے قائم کیا گیا ہے وہ یہ ہے: لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ * فَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقِعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللهُ المُجْهِدِينَ عَلَى الْقَعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا دَرَجَتٍ مِنْهُ وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةٌ ، وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء: ۹۶-۹۷) مومنوں میں سے ایسے بیٹھ رہنے والے جو معذور نہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنے والے ہیں (دونوں) برابر نہیں۔اللہ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ان کے مالوں اور جانوں کی قربانی کی وجہ سے درجہ میں فضیلت دی ہے اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ کیا ہے اور اللہ نے مجاہدین کو قاعدین پر بہت بڑے اجر کی وجہ سے فضیلت دی ہے۔جس میں اس کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت و رحمت ہے اور اللہ بہت ہی مغفرت کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ فضیلت مالی اور جانی قربانی کی نسبت سے کم و بیش ہوتی ہے۔اس لئے مطعون، مبطون اور غریق و غیرہ کو علی الاطلاق شہید فی سبیل اللہ کے درجہ میں سمجھنا غلطی ہے۔یہ تعلق ہے اس باب کا فضیلت شہادت کے سابقہ ابواب سے۔مذکورہ بالا آیات سورہ نساء کی ہیں۔جو مھ میں نازل ہوئی۔جیسا کہ واقعات غزوہ اُحد سے ظاہر ہے جس کا ذکر اس سورۃ میں وارد ہوا ہے۔اس زمانہ نزول پر نظر رکھتے ہوئے مذکورہ بالا شان نزول کی حقیقت آسانی سے مجھی جاسکتی ہے کہ الفاظ فَنَزَلَتْ اور فَأَنْزَلَ الله سے مراد تطبیق آیت ہے اور یہ امر کہ آیت کا ٹکڑا غَيْرُ أُولِى الضَّرَرِ ابن ام مکتوم کی شکایت ہی پر نازل ہوا تھا اور اس سے پہلے یہ سورۃ میں نہیں تھا۔اس بارہ میں مفصل بحث زیر آیت محولہ بالا كتاب التفسير، سورۃ النساء، باب ۱۸ دیکھئے۔مذکورہ بالا آیات سے عنوانِ باب قائم کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ معذور لوگ جو کسی جسمانی نقص کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو سکتے ہوں وہ بھی اپنی اپنی نیت و عمل کے مطابق ثواب جہاد میں شریک ہو سکتے ہیں۔اس تعلق میں تشریح باب ابھی دیکھئے۔