صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 2 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 2

صحيح البخاری جلده ۵۳ - کتاب الصلح فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ وَلَمْ يَأْتِ النَّبِيُّ حضرت بلال آئے نماز کے لئے اذان دی اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ نبی ﷺ (واپس) نہ پہنچے۔تب (حضرت بلال) فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم حُبِسَ وَقَدْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَهَلْ لَّكَ تو رُک گئے ہیں اور نماز کا وقت ہو گیا ہے تو کیا آپ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ إِنْ شِئْتَ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ انہوں نے کہا: اچھا اگر تم فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جَاءَ چاہو۔(حضرت بلال نے ) نماز کے لئے اقامت کہی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي اور حضرت ابوبکر آگے بڑھے اور اس کے بعد نبی الصُّفُوْفِ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِ الْأَوَّلِ الله صفوں سے گزرتے ہوئے آئے اور پہلی صف فَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيْحَ حَتَّى أَكْثَرُوا میں کھڑے ہو گئے۔لوگ تالیاں بجانے لگے اور بہت وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَكَادُ يَلْتَفِتُ (تالیاں بجائیں اور حضرت ابوبکر نماز میں ادھر اُدھر نگاہ نہیں کرتے تھے۔( جب بہت تالیاں بجیں ) تو الصَّلَاةِ فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِالنَّبِيِّ فِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ فَأَشَارَ إِلَيْهِ انہوں نے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ نبی نے ان بِيَدِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ كَمَا هُوَ فَرَفَعَ کے پیچھے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ان کو اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ نماز پڑھائیں، جیسا کہ وہ پڑھا أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَحَمِدَ اللهَ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى دَخَلَ فِي الصَّفِ رہے ہیں۔حضرت ابوبکڑ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اللہ کی حمد کی اور پھر وہ اُلٹے پاؤں ہے، یہاں تک کہ صف فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں آگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ فَصَلَّى بِالنَّاسِ۔فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔جب آپ (نماز سے) النَّاسِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا نَابَكُمْ فَارغ ہوئے تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور شَيْءٍ فِي صَلَاتِكُمْ أَخَذْتُمْ بِالتَّصْفِيْحِ فرمایا: لوگو! جب نماز میں تمہیں کوئی بات پیش آئے إِنَّمَا التَّصْفِيْحُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَّابَهُ شَيْءٍ تو تم تالیاں بجانے لگ جاتے ہو۔تالیاں بجانا تو فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللهِ فَإِنَّهُ عورتوں کے لئے ہے۔جس کسی کو نماز میں کوئی بات ع عمدۃ القاری میں اس جگہ الفاظ فَجَاءَ بِلال فَاذَّنَ بِالصَّلاةِ ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۲۶۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔