صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 2
صحیح البخاری جلده ۵۳ - كتاب الصلح فَأَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ وَلَمْ يَأْتِ النَّبِيُّ حضرت بلال آئے نماز کے لئے اذان دی اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ في ال (واپس) نہ پہنچے۔ تب (حضرت بلال) فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم حُبِسَ وَقَدْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَهَلْ لَّكَ تو رُک گئے ہیں اور نماز کا وقت ہو گیا ہے تو کیا آپ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ؟ فَقَالَ : نَعَمْ إِنْ شِئْتَ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ انہوں نے کہا: اچھا اگر تم فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جَاءَ چاہو۔ (حضرت بلال نے) نماز کے لئے اقامت کہی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي اور حضرت ابوبکر آگے بڑھے اور اس کے بعد نبی الصُّفُوفِ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِ الْأَوَّلِ ال صفوں سے گزرتے ہوئے آئے اور پہلی صف صلى الله عروسه فَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيْحِ حَتَّى أَكْثَرُوا میں کھڑے ہو گئے۔ لوگ تالیاں بجانے لگے اور بہت (تالیاں بجائیں اور حضرت ابوبکر نماز میں ادھر اُدھر وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَكَادُ يَلْتَفِتُ (تالیاں) صلى الله عروسة نگاہ نہیں کرتے تھے۔ ( جب بہت تالیاں بجیں ) تو فِي الصَّلَاةِ فَالْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ فَأَشَارَ إِلَيْهِ انہوں نے مڑ کر دیکھ تو کیا دیکھتے ہیں کہ نبی کے ان بِيَدِهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ كَمَا هُوَ فَرَفَعَ کے پیچھے ہیں۔ آنحضرت علی نے اُن کو اپنے ہاتھ صلى الله ۔ سے اشارہ کیا کہ وہ نماز پڑھائیں، جیسا کہ وہ پڑھا أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى دَخَلَ فِي الصَّفِ رہے ہیں۔ حضرت ابوکر نے اپنا ہوا تھا اور اللہ اُٹھایا اور اللہ کی حمد کی اور پھر وہ اُلٹے پاؤں ہٹے، یہاں تک کہ صف فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں آگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ جب آپ (نماز سے) النَّاسِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا نَابَكُمْ فارغ ہوئے تو آپ لوگوں کی طرف آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ أَخَذْتُمْ بِالتَّصْفِيْحِ فرمایا: لوگو! جب نماز میں تمہیں کوئی بات پیش آئے إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَّابَهُ شَيْءٌ تو تم تالیاں بجانے لگ جاتے ہو۔ تالیاں بجانا تو فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ : سُبْحَانَ اللهِ فَإِنَّهُ عورتوں کے لئے ہے۔ جس کسی کو نماز میں کوئی بات عمدۃ القاری میں اس جگہ الفاظ ، فَجَاءَ بِلال فَاذَّنَ بِالصَّلاةِ ہیں ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۲۶۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔