صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 192
صحيح البخاری جلده ۱۹۲ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير اور محولہ بالا پہلی آیت یہ ہے : انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبيل الله " ذَلِكُمُ لَّكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ، لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لاتَّبَعُوكَ وَلَكِن بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ وَسَيَحْلِفُوْنَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمُ : يُهْلِكُونَ أَنْفُسَهُمْ = وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ (التوبة: ۴۱-۴۲) یعنی اے مومنو! جہاد کے لئے نکل کھڑے ہو خواہ تم بے سامان ہو یا ساز و سامان سے مصلح اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو۔یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہوگا اگر تم جانو۔اگر قریب میں ملنے والا فائدہ ہوتا یا چھوٹا سفر ہوتا تو یہ لوگ تیرے پیچھے چل پڑتے لیکن انہیں مسافت دور معلوم ہوئی (اور تیری واپسی کے بعد ) اللہ کی قسمیں کھا کر کہیں گے اگر ہماری طاقت میں ہوتا تو ہم ضرور تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے۔یہ لوگ اپنی جانوں ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور اللہ کوعلم ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔دوسری آیت جس کا ذکر ہے یہ ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ انَّا قَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ، فَمَا مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ ه إِلَّا تَغْفِرُوا يُعَذِّبُكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا " وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۖ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التوبة: ۳۸ - (۳۹) یعنی اے مومنو! تم کو کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں لڑنے کے لئے ( سب مل کر نکلو تو تم بوجھ محسوس کرتے ہوئے زمین کی طرف جھک جاتے ہو۔کیا تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی پسند کرتے ہو۔(اگر ایسا ہے تو یاد رکھو کہ دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلہ میں حقیر ہے۔اگر تم لڑنے کے لئے نہیں نکلو گے تو وہ تم کو دردناک سزا دے گا اور تمہارے مقابل ایک اور قوم کو بدل کر لے آئے گا اور تم اسے نقصان نہیں پہنچا سکو گے اور اللہ ہر چیز پر جس کے کرنے کا وہ ارادہ کرے قادر ہے۔جهَادٌ وَنِيَّةٌ : يه فقرہ حدیث کا ٹکڑا ہے جو باب میں بھی گزر چکی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :- ”جو شخص آنکھیں رکھتا ہے اور حدیثوں کو پڑھتا ہے اور قرآن کو دیکھتا ہے وہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہ طریق جہاد جس پر اس زمانہ کے اکثر وحشی کار بند ہو رہے ہیں یہ اسلامی جہاد نہیں ہے بلکه یفس امارہ کے جوشوں سے یا بہشت کی طمع خام سے ناجائز حرکات ہیں جو مسلمانوں میں پھیل گئے ہیں۔میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں خود سبقت کر کے ہر گز تلوار نہیں اُٹھائی۔بلکہ ایک زمانہ دراز تک کفار کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھایا اور اس قدر صبر کیا جو ہر ایک انسان کا کام نہیں اور ایسا ہی آپ کے اصحاب بھی اسی اعلیٰ اصول کے پابند رہے۔کا6 گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۱۰،۹) اس لطیف اور پر معرفت مضمون کیلئے دیکھئے رسالہ گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔مصنفہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔