صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 191
صحیح البخاری جلده ۱۹۱ ۵۲ - كتاب الجهاد والسير يُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ انْفِرُوا ثُبَاتٍ حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ فانْفِرُوا سَرَايَا مُتَفَرِّقِينَ۔ وَيُقَالُ وَاحِدُ الثَّبَاتِ ثُبَات کے معنی ہیں جُدا جدا دستے بن کر نکلو۔ کہا جاتا ثبَةٌ۔ ہے: ثبات کا مفرد ثبةً ہے۔ ٢٨٢٥: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۲۸۲۵: عمرو بن علی نے ہم سے بیان کیا کہ کی حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ (بن سعید ) نے ہمیں بتایا ۔ سفیان (ثوری) نے ہم حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ سے بیان کیا ۔ انہوں نے کہا: منصور نے مجھے بتایا۔ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا انہوں نے مجاہد سے مجاہد نے طاؤس سے، طاؤس نے أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی يَوْمَ الْفَتْحِ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اس فتح کے بعد ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا۔ جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو تم نکل کھڑے ہو۔ اطرافه: ١٣٤٩، 1٥٨٧، 1833، ۲090، ۲۴۳۳، ۲۷۸۳، ۳۰۷۷، 3189، 4313 تشریح وُجُوبُ النَّفِيرِ : عنوان باب یں جن دو آتوں کا حوالہ دیاگیا ہے ان میںجہاد کےلئے نکلنے کا م ہے جو وجوب پر دلالت کرتا ہے اور جہاد کے لئے نہ نکلنا منافقت اور ہلاکت قرار دیا گیا ہے۔ نیز اس کے وجوب کی کچھ شرطیں ہیں۔ مثلاً جنگ دفاعی ہو اور دشمن حدود سے تجاوز کر سے تجاوز کر کے حملہ آور ہو۔ امام ثوری کا مذہب ہے کہ جہاد فرض شرعی ہے جبکہ دفاع کے لئے مسلمان مضطر ہوں ورنہ ان کے نزدیک باقی صورتوں میں لڑائی حرام ہے اور ان کے استدلال کی بنیاد یہ آیت ہے : وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ) (البقرۃ: ۱۹۱) یعنی اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور کسی پر زیادتی نہ کرو اور یادر ہے کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ اس ۔ آیت میں حکم کے دو حصے ہیں۔ ہیں۔ ایک مثبت اور دوسرا منفی۔ امنفی مثبت میں صراحت ہے کہ جنگ انہی سے کرو جو تم پر حملہ آور ہوں اور منفی میں ممانعت اعتداء ہے۔ یعنی جنگ میں سبقت نہ کی جائے ۔ امام ثوری نے اس آیت سے دفاعی جنگ کے وجوب اور جارحانہ جنگ کی ممانعت کا استدلال کیا ہے اور علماء میں سے اکثر نے ان کے اس استدلال میں ان سے اتفاق کیا ہے۔ دیکھئے کتاب عظمۃ الاسلام مصنفہ محمود مهدی استنبولی حاشیه صفحه ۱۴۱۔ اور محاربین سے جنگ کرنے پر ائمہ اور فقہاء کا اتفاق ہے۔ (بداية المجتهد، كتاب الجهاد، الفصل الثالث في معرفة ما يجوز من النكاية في العدو)