صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 190
صحيح البخاری جلده وَثِقَالًا وَ جَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ 19+ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ٢٧ : وُجُوبُ النَّفِيْرِ وَمَا يَجِبُ مِنَ الْجِهَادِ وَالنِّيَّةِ بوقت ضرورت جہاد کیلئے ) نکلنے کا وجوب اور جہاد اور جہاد کی نیت رکھنے کے وجوب کے بارہ میں وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: انْفِرُوا خِفَافَا اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا ذکر یعنی اے مومنو! جہاد کیلئے نکل کھڑے ہو خواہ تم بے سامان ہو یا ساز و سامان سے مسلح اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستہ میں وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ ذَلِكُمْ جہاد کرو۔یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگرتم جانو۔اگر کوئی قریب خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ لَو میں ملنے والے فائدہ کا سامان ہوتا اورمعمولی سفر ہوتا تو وہ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا ضرور تیرے پیچھے چل پڑتے لیکن یہ مسافت انہیں بہت دور معلوم ہوئی اور اب وہ تیری واپسی کے بعد عنقریب اللہ لا تَبَعُوكَ وَلكِنْ بَعْدَتْ عَلَيْهِمُ کی تمیں کھا کر کہیں گے کہ اگر ہماری طاقت میں ہوتا تو ہم الثَّقَةُ ، وَسَيَحْلِفُونَ بِاللهِ۔۔۔۔الآيَةَ ضرور تمہارے ساتھ نکل کھڑے ہوتے۔یہ لوگ اپنی جانوں (التوبة: ٤١ - ٤٢ کو ہلاک کرتے ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔وَقَوْلُهُ: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کا ذکر کہ اے وہ جو ایمان إِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيْلِ اللهِ لائے ہو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تمہیں کہا جاتا اثَاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيْتُمْ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلو تو تم زمین پر بِالْحَيُوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا ایک بوجھل چیز کی طرح گر جاتے ہیں۔کیا تم نے آخرت کے مقابل پر دنیا کی زندگی کا سامان پسند کیا مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ ہے۔یاد رکھو کہ دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے إِلَّا قَلِيلٌ إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبُكُمُ مقابلہ میں محض ایک حقیر چیز ہے۔اگر تم اللہ کے عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا راستے میں لڑنے کیلئے نہیں نکلو گے تو وہ تم کو دردناک غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا وَ اللهُ عذاب دے گا اور تمہاری بجائے ایک دوسری قوم کو عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لے آئے گا اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے (التوبة: ٣٨ - ۳٩) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔