صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 1
صحيح البخاری جلده -٥٣- كِتَابُ الصُّلح بَاب ۱ : مَا جَاءَ فِي الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ ۵۳ - کتاب الصلح لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے بارے میں جو ( اقوال وارد ہوئے ) ہیں وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نیز الله عز وجل کے اس ارشاد کا ذکر کہ اُن کے بہت نَّجُوبُهُمْ إِلَّا مَنْ آمَرَ بِصَدَقَةٍ أَو سے مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی، باستثناء أن مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ لوگوں کے مشوروں کے جو صدقہ یا نیک بات یالوگوں کے درمیان اصلاح کرنے کا حکم دیں اور جو اللہ کی يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ رضا جوئی کی خاطر ایسا کرے گا تو ہم اُسے جلد ہی بڑا نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا (النساء: ١١٥) اجر دیں گے۔وَحُرُوجُ الْإِمَامِ إِلَى الْمَوَاضِعِ اور امام کا اپنے ساتھیوں کو لوگوں کی جگہوں پر صلح لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ بِأَصْحَابِهِ۔کرانے کی غرض سے لے جانا۔٢٦٩٠: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي ۲۶۹۰: سعید بن ابی مریم نے ہمیں بتایا۔ابوغسان مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ: حَدَّثَنِي نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: ابوحازم (سلمہ أبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ بن دینار) نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت سہل بن اللهُ عَنْهُ : أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ (قبیلہ بنی عمرو بن عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٍ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ عوف کے بعض لوگوں کے درمیان کچھ جھگڑا تھا تو نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صلى اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے چند لوگوں سمیت أَنَاس مِنْ أَصْحَابِهِ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ اُن کے پاس گئے تاکہ اُن کے درمیان صلح کرائیں۔فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَمْ يَأْتِ النَّبِي الا نماز کا وقت ہو گیا اور نبی ﷺ (واپس) نہ آئے۔على الله