صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 1 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 1

صحیح البخاری جلده ب العالم ۵۳ - كتاب الصلح ٥٣- كِتَابُ الصلح 0000000000 بَاب ۱ : مَا جَاءَ فِي الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے بارے میں جو ( اقوال وارد ہوئے ) ہیں وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نیز الله عز وجل کے اس ارشاد کا ذکر کہ اُن کے بہت نَّجْوُلُهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَو سے مشوروں میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی، باستثناء اُن لوگوں کے مشوروں کے جو صدقہ یا نیک بات یا لوگوں مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ فَسَوْفَ کے درمیان اصلاح کرنے کا کم دیں اور جو اللہ کی رضا جوئی کی خاطر ایسا کرے گا تو ہم اُسے جلد ہی بڑا نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا (النساء: ١١٥) اجر دیں گے۔ وَخُرُوجُ الْإِمَامِ إِلَى الْمَوَاضِعِ اور امام کا اپنے ساتھیوں کو لوگوں کی جگہوں پر صلح لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ بِأَصْحَابِهِ۔ کرانے کی غرض سے لے جانا ۔ ٢٦٩٠ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي ۲۶۹۰ : سعيد بن ابی مریم نے ہمیں بتایا۔ ابو غسان مَرْيَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ: حَدَّثَنِي نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: ابوحازم (سلمہ أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ بن دینار ) نے مجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت سہل بن اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ (قبیلہ ) بنی عمرو بن عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ عوف کے بعض لوگوں کے درمیان کچھ جھگڑا تھا تو نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صلى اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے چند لوگوں سمیت أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ اُن کے پاس گئے تا کہ اُن کے درمیان صلح کرائیں۔ الله صلى الله فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَلَمْ يَأْتِ النَّبِيُّ ﷺ بي علم نماز کا وقت ہو گیا اور نبی علی (واپس) نہ آئے ۔