صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 189
صحيح البخاری جلده ۱۸۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ صَحِبْتُ سے ، ابن یوسف نے سائب بن یزید سے روایت کی طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَسَعْدًا وَالْمِقْدَادَ کہ انہوں نے کہا: میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ ، حضرت ابْنَ الْأَسْوَدِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سعد بن ابی وقاص ) حضرت مقداد بن اسود اور حضرت عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَمَا سَمِعْتُ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہا ہوں ۔ أَحَدًا مِنْهُمْ يُحَدِّثُ عَنْ رَّسُولِ اللهِ میں نے ان میں سے کسی کو بھی ( جنگ کے متعلق ) کوئی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے نہیں سنا صرف حضرت طلحہ کو اُحد کی جنگ سے طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ يَّوْمٍ أُحُدٍ۔ طرفه: ٤٠٦٢ متعلق ( واقعات ) بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ تشريح : مَنْ حَدَّثَ بِمَشَاهِدِهِ فِي الْحَرْبِ : قوم میں روح جہاد پیدا کرنے اور قائم رکھنے کے لئے میں بعض اس خیال سے کہ نفس کے واقعات سناتے رہنا ضروری ہے۔ انسانی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔ بعض اس جہاد کے ابے جا فخر پیدا نہ ہو خاموش رہتے ہیں۔ بعض بیان ؟ ا بیان میں مبالغہ ہو جائے ۔ انے کے خوف سے احتیاط کرتے ہیں اور بعض اپنے کارہائے نمایاں سناتے ہیں تا سننے والوں کے نفسوں میں نیک جذبات ابھریں۔ صحابہ کرام میں ہر قسم کے لوگ تھے۔ حضرت طلحہ کا صبر آزما واقعہ جرات و بہادری کا ایک شاہکار ہے۔ اُحد کے میدان کارزار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے جسم کو سپر بنایا ہوا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو تیر دشمنوں کی طرف سے آتے وہ انہیں اپنے ہاتھ پر لیتے اور تیروں سے چھلنی ہونے کے باوجود اپنی جگہ سے ذرا بھر نہ ہلے کہ کہیں تیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ آگے ۔ (دیکھئے کتاب فضائل الصحابة باب ۱۴، کتاب المغازی باب (۱۸) بہادری کے ایسے واقعات کا تذکرہ اپنے اندر بہت بڑی تاثیر رکھتا ۔ ثیر رکھتا ہے۔ بعض فقہاء نے اس قسم کے واقعات کی داستان بیان کرنا مکروہ سمجھا ہے کہ اس ۔ ہے کہ اس سے ریاء، تکبر اور ر بے جا جان فخر جیسی صفات رذیلہ پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت امام بخاری نے عنوانِ باب باب میں میں بعض بعض ان صحابہ کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ہر خاص و عام سے دادِ شجاعت لی۔ اگر ان کی بہادری کے کارناموں کا ذکر ناپسندیدہ ہوتا تو یہ باتیں ہم تک کیسے پہنچتیں ۔ اس باب میں سابقہ مضمون کے بقہ مضمون کے تسلسل ہی میں یہ بتایا گیا ہے کہ دعاؤں ۔ ہے کہ دعاؤں کے علاوہ قوم کے اندر بہادری اور مردانگی پیدا کرنے کے لئے ایسے واقعات کا سنانا جو ایمان افروز ہوں ضروری ہے اور یہ منع نہیں۔ ہاں جو بات مکروہ ہے وہ یہ ہے کہ واقعات کے بیان میں مبالغہ، دروغ اور فخر دریاء کو استعمال کیا جائے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کے حوالہ کے لیے دیکھئے کتاب المغازی ، باب ۵۶،۱۸۔