صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 188
صحيح البخاری جلده IAA ۵۶ - كتاب الجهاد والسير :۲۸۲۳ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۲۸۲۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ سَمِعْتُ ( بن سلیمان) نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے باپ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سے سنا۔کہتے تھے: میں نے حضرت انس بن مالک كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَقُوْلُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ يہ دعا مانگا کرتے تھے: اے میرے اللہ ! میں عاجز وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَأَعُوْذُ بِكَ آ جانے سے اور سستی اور بزدلی اور بڑھاپے کی لکھی مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَأَعُوْذُ بِكَ عمر سے اور زندگی اور موت کے فتنہ سے تیری پناہ لیتا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔اطرافه ٤٧٠٧ ٦٣٦٧، ٦٣٧١۔تشریح: ہوں۔نیز عذاب قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔مَا يُتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ : بزدل انسان فریضہ جہاد ادا نہیں کر سکتا۔اس کے لئے شجاعت ، دلیری اور دیگر صفات مردانگی ضروری ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان صفات کے پیدا کئے جانے کی دعا خود بھی کیا کرتے تھے اور افراد امت کو بھی ہدایت فرماتے کہ وہ بزدلی اور کاہلی سے محفوظ رہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی اولاد کو بھی یہی دعا سکھلایا کرتے تھے۔مذکورہ بالا دعا ان دعاؤں کا ضروری حصہ ہے جو التحیات میں التحیات کے بعد کی جاتی ہیں۔باب ۲۵ کی دوسری روایت میں العَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ کے الفاظ ہیں۔عاجز اور سُست انسان بھی جہاد کی اہلیت اور قابلیت نہیں رکھتا۔اسی طرح آپ نے اس بڑھاپے سے بھی پناہ مانگی ہے جو انسان کو نا کارہ کر دیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں باتوں سے خود بھی پناہ مانگی اور اپنی امت کو بھی تلقین فرمائی کہ وہ ان سے پناہ کی دعا کیا کریں۔بَاب ٢٦ : مَنْ حَدَّثَ بِمَشَاهِدِهِ فِي الْحَرْبِ جو شخص اپنی لڑائی کے کارنامے بیان کرے قَالَهُ أَبُو عُثْمَانَ عَنْ سَعْدٍ ابو عثمان نے حضرت سعدؓ سے روایت کرتے ہوئے اس کا ذکر کیا۔٢٨٢٤: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۲۸۲۴ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حاتم حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْن يُوْسُفَ (بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن یوسف