صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 187
صحيح البخاری جلده IAZ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بکثرت آیا۔اونٹوں کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ بہت سے لوگوں کو ایک سو سے لے کر تین سو اونٹ ملے۔قبائل حسنین نے جان پر کھیل کر ایک قطعی فیصلہ کا تہیہ کیا تھا۔کیونکہ انہیں فتح مکہ اور بیت اللہ میں رکھے ہوئے بتوں کی اہانت کا سخت رنج تھا اور اس سلسلہ میں انہوں نے تمام مال و منال اور مواشی معہ اہل وعیال پہاڑیوں میں محفوظ کر لیا تھا اور خود مسلح ہو کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر گھات میں بیٹھ گئے تھے۔لیکن ان کی ساری حسرتیں دل میں ہی رہ گئیں۔انہیں شکست فاش ہوئی اور سارے اموال جہاں جمع کئے ہوئے تھے وہیں چھوڑنے پڑے۔قبائل حنین کے صرف اونٹ ہی ایک جگہ جمع کئے جاتے تو بہول کے جنگل کی مثال ان پر ٹھیک بیٹھتی۔اسی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا مثال سے اشارہ فرمایا ہے۔یہ تمثیل قطعا مبالغہ آمیز نہ تھی۔بلکہ امر واقعہ کا اظہار تھا۔بدوی قبائل آپ کی فیاضی کا حال دیکھ اور سن چکے تھے۔یہی خبر ان لوگوں کو بھی اس امید سے آپ کے راستے میں لے کر آئی کہ انہیں بھی کچھ مل جائے گا۔بَابِ ٢٥ : مَا يُتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ بزدلی سے پناہ مانگنا ۲۸۲۲ : حَدَّثَنَا مُوْسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۲۸۲۲ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔عبدالملک بن عمیر نے ہم سے ابْنُ عُمَيْرٍ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ بیان کیا کہ میں نے عمرو بن میمون اودی سے سنا۔الْأَوْدِيَّ قَالَ كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيْهِ انہوں نے کہا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ) اپنے هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُعَلِمُ بیٹوں کو یہ دعائیہ کلمات سکھایا کرتے تھے جیسے استاد الْعِلْمَانَ الْكِتَابَةَ وَيَقُولُ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ لڑکوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد یہ کلمات پڑھ کر دعا کرتے تھے : اے میرے اللہ ! میں بزدلی سے تیری صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ پناہ لیتا ہوں اور میں تیری پناہ لیتا ہوں ایسی عمر تک بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوْذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى پہنچنے سے جو نکمی اور بیکار ہو اور میں دنیا کے فتنہ سے أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا تیری پناہ لیتا ہوں اور عذاب قبر سے بھی تیری پناہ لیتا وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَحَدَّثْتُ ہوں۔میں نے یہ حدیث مصعب بن سعد) سے بِهِ مُصْعَبًا فَصَدَّقَهُ۔اطرافه: ٦٣٦٥ ، ٦٣٧٠، ٦٣٧٤ ، ٦٣٩٠۔بیان کی تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔