صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 186 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 186

صحيح البخاری جلده MAY ۵۲ - كتاب الجهاد والسير پہلی قسم کا تعلق نشو و نما سے دوسری کا بقا و سلامتی سے اور تیسری کا تدبیر تنظیم سے ہے۔تینوں بنیادی خلق بقائے حیات سے متعلق ہیں۔پہلی قسم کا کمال جود وسخا اور ایثار و قربانی ہے۔دوسری قسم کا کمال شجاعت اور تیسری قسم کا کمال حسن ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم متینوں قسم سے تعلق رکھنے والے اخلاق فاضلہ سے کما حقہ متصف اور جامع صفاتِ حسنہ تھے۔كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ النَّاسِ أَحْسَن أَجْوَد، أشجع انعل اتفضیل کے صیغے ہیں جو کمال پر دلالت کرتے ہیں۔ان الفاظ سے اخلاق کا مثبت پہلو اور دوسری روایت سے منفی پہلو واضح کیا گیا ہے۔مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ : مَقْفَل اسم ظرف ہے یعنی حسین سے لوٹتے وقت۔آنحضرت مال سے غزوہ حنین میں بھی حیرت انگیز شجاعت ظاہر ہوئی۔أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ - أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبُ فرماتے ہوئے آپ تن تنہا دشمن کی طرف بڑھے جو آپ کی طرف مسلسل تیروں کی بارش کر رہا تھا۔دشمن کا حملہ اچانک تھا۔جس سے مسلمانوں کے اونٹ اور گھوڑے بدک برک کر قابو سے نکل گئے۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بآواز بلند رجز خوانی کے ساتھ دشمن پر حملہ آوری سے اسلامی لشکر کے اُکھڑے ہوئے قدم جم گئے۔صحابہ کرام کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیر میں ڈوبی ہوئی آواز نے ولولہ اور جوش و خروش کی ایک برقی رو دوڑا دی۔وہ نہایت سرعت سے اور شیر کی سی بہادری کے ساتھ پلٹے اور دشمن پر ٹوٹ پڑے جس سے چشم زدن میں میدان کار زار کا رنگ بدل گیا اور دشمن یا تو کھیت رہا یا تاب مقاومت نہ لا کر تتر بتر ہو گیا۔(دیکھئے کتاب المغازی باب ۵۴) غزوہ حنین سے واپسی پر ایک اور واقعہ بھی پیش آیا۔بدوی قبائل کے بعض افراد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو راستے میں گھیر لیا کہ انہیں بھی مال غنیمت سے کچھ دیا جائے۔آپ نے معذرت کی کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں۔اگر ہوتا تو ضرور دیتا۔میں بخیل نہیں۔آپ کے کندھوں سے چادر اتر کر بول کے کانٹوں میں اٹک گئی۔آپ نے چادر مانگی جو اطمینان قلب کی دلیل ہے۔دشمن کے علاقہ میں ایسا واقعہ پیش آئے تو سب سے پہلے اس کو اپنی جان کی فکر ہوتی ہے۔آپ کے دادا عبدالمطلب نے جب ابرہہ سے اپنے اونٹ طلب کئے تھے تو وہ بھی درحقیقت جنگ کے نتائج کے بارے میں مطمئن تھے۔اس کے لشکر کو دیکھ کر ہر اسماں نہیں ہوئے۔یہی حالت طمانیت پر وقار شیر دل انسان کی ہوتی ہے۔واقعہ حنین اور اس دوسرے واقعہ سے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال شجاعت کا ثبوت ملتا ہے وہاں آپ کی سخاوت اور شان در یادلی کا بھی علم ہوتا ہے۔غزوہ حنین میں بہت سے اموال غنیمت ہاتھ آئے جو آپ نے سارے تقسیم کر دیئے۔قریش مکہ کو بھی ان سے ایک وافر حصہ ملا۔(روایت نمبر ۳۱۴۷) اب آپ کے پاس کچھ نہ رہا کہ مذکورہ بالا بدوؤں کو دیا جاتا۔عنوان باب کی تعین مناسبت سے دوسری روایت بھی بطور شہادت پیش کی گئی ہے۔اس روایت سے حضرت امام بخاری کا کیا ہی عجیب دلنشین استدلال ہے۔أَعْطُرُنِي رِدَائِي لَو كَانَ لِي عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاءِ۔۔۔۔- ي فقره دفع الوقتی سے سرمو بھی تعلق رکھنے والا نہیں تھا۔بلکہ سراسر اظہار حقیقت پر مبنی ہے۔غزوہ حنین میں آپ کے پاس اونٹ اور دیگر سامان