صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 185
صحيح البخاری جلده ۱۸۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ۲۸۲۱ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۸۲۱ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيَ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ عمر بن محمد بن جبیر بن مطعم نے مجھے بتایا۔محمد بن جبیر نے مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ کہا: مجھے (میرے والد ) حضرت جبیر بن مطعم نے خبردی ابْنُ مُطْعِمٍ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيْرُ مَعَ کہ ایک بار وہ رسول اللہ علیہ کے ساتھ جارہے تھے سَمُرَةٍ اور آپ کے ساتھ اور لوگ بھی تھے۔یہ واقعہ اس وقت رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا ہے جبکہ آپ حسنین سے واپس آرہے تھے۔بعض وَمَعَهُ النَّاسُ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلَقَتِ ( بدوی ) لوگ راستے ہی میں آپ سے لپٹ گئے اور النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى آپ سے مانگنے لگے۔انہوں نے آپ کو اتنا مجبور کیا فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ النَّبِيُّ کہ آپ کو ایک بول کے درخت کی طرف ہٹنا پڑا۔جس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْطُونِي سے آپ کی چادر اٹک گئی اور نبی ﷺ ٹھہر گئے اور رِدَائِي لَوْ كَانَ لِي عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاءِ آپ نے فرمایا: مجھے میری چادر دے دو۔اگر میرے نَعَمَّا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوْنِي پاس ان کانٹے دار درختوں کی تعداد میں بیل، بکری، اونٹ ہوتے تو میں ضرور ان کو تمہارے درمیان بانٹ دیتا اور تم مجھے بخیل نہ پاتے اور نہ جھوٹا اور نہ بزدل۔بَخِيْلًا وَلَا كَذُوْبًا وَلَا جَبَانًا۔طرفة: ٣١٤٨۔شريح : الشَّجَاعَةُ فِي الْحَرُبِ وَالْجُبْنُ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت اور دلیری کے تعلق میں دو واقعات روایات زیر باب میں منقول ہیں۔پہلا واقعہ ان دنوں کا ہے جب افواہیں سرگرم تھیں کہ قریش مکہ مدینہ پر حملہ کی تیاری کر رہے ہیں۔ایک رات شور سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے کہ اچانک حملہ کی صورت ہے۔تحقیق کرنے کی غرض سے آپ تن تنہا باہر تشریف لے گئے۔یہ واقعہ غیر معمولی جرات پر دلالت کرتا ہے۔انسان ایسی حالت میں ہوش وخرد کھو بیٹھتا ہے اور دوسروں کو آوازیں دینا شروع کر دیتا ہے کہ دیکھیں کیا ماجرا ہے۔آپ نے دوسروں کو تشویش میں ڈالنا نہ چاہا اور خود تحقیق فرمانے کے لئے روانہ ہو گئے۔دوسری روایت میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت تین باتوں کی نفی فرمائی ہے جو شجاعت و سخاوت اور دیانت وامانت کے منافی ہیں۔جھوٹ بھی در حقیقت بزدلی کا نتیجہ ہے۔علماءو اخلاقیات نے تین قسم کی قوتیں اخلاق کی بنیاد قرار دی ہیں۔(۱) قوائے شہوانیہ (۲) قوائے غضبیہ (۲) قوائے عقلیہ۔