صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 184
صحیح البخاری جلده الله ۵۶ - كتاب الجهاد والسير مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ إِنْ شَاءَ الله اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے لَجَاهَدُوا فِي سَبِيْلِ اللهِ فُرْسَانًا اگر وہ انشاء اللہ کہتے تو سب کے سب ( پیدا ہوتے اور ) أَجْمَعُوْنَ۔ سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے۔ اطرافه: ٣٤٢٤، ٥٢٤٢، ٦٦٣٩ ، ٦٧٢٠، ٧٤٦٩۔ تشريح : مَنْ طَلَبَ الْوَلَدَ لِلْجِهَادِ: باب ۲۳ میں حضرت سلیمان علیہ السلام رت سلیمان علیہ السلام کی جہاد کے بارہ میں نیک خواہش کا ذکر ہے کہ ان کی اولاد بھی مجاہد فی سبیل اللہ ہو۔ عہد نامہ ق نامہ قدیم کی کتاب سلاطین میں ان کی سات سو بیویوں کا ذکر ہے۔ اسی طرح ایک بیٹے رحبعام کا ذکر آیا ہے جو سلطنت سنبھال نہ سکا۔ ( سلاطین ا، باب (۱۲۱) اس میں نعوذ باللہ حضرت سلیمان کی بے عنوانی سے متعلق بھی بعض باتوں کا ذکر ہے جنہیں قرآن مجید نے وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ (البقرة: (۱۰۳) کہہ کر رد کیا ہے اور کتاب امثال میں ان کی مندرجہ نصائح سے بھی قرآن کے بیان ہی کی تصدیق ہوتی ہے۔ اور کتاب سلاطین نمبرا ، بابا سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنی سلطنت کے خلاف ملک کے اندر اور باہر ریشہ دوانیوں کا بخوبی علم تھا۔ ان حالات میں مذکورہ بالا آرزو ایک طبعی امر ہے اور اس کی تائید غزل الغزلات سے ہوتی ہے جہاں آنے والے خطرے کو شب تاریک کے خطرے سے تشبیہ دی گئی ہے جس سے محفوظ رہنے کے کئے بہادر مسلح پہریداروں کے انتظام کئے جانے کا ذکر ہے۔ (غزل الغزلات - باب ۳، آیت (۸) باب ٢٤ : الشَّجَاعَةُ فِي الْحَرْبِ وَالْجُبْنُ جنگ میں بہادری اور بزدلی ۲۸۲۰ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ۲۸۲۰ : احمد بن عبد الملک بن واقد نے ہم سے بیان عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ثابت سے صلى الله زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثابت نے حضرت انس ہ سے روایت کی ۔ انہوں قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: نبی ﷺ سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت اور أَحْسَنَ النَّاسِ وَأَشْجَعَ النَّاسِ وَأَجْوَدَ سب سے زیادہ بہادر اور سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ فَكَانَ ایک بار ایسا ہوا کہ اہل مدینہ گھبرا اُٹھے تو نبی ﷺ گھوڑے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَقَهُمْ پر سوار ہوکر ان سب سے آگے گئے اور آپ نے فرمایا: عَلَى فَرَسٍ وَقَالَ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا۔ ہم نے اس گھوڑے کو ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریا پایا۔ اطرافه: ٢٦٢٧ ، ٢٨٥٧ ، ٢٨٦٢، ٢٨٦٦ ، ۲۸٦٧، ۲۹۰۸، ٢٩۶۸، ٢٩٦٩، ٣٠٤٠، ٦٠، ٦٢١٢۳۳