صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 183 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 183

صحیح البخاری جلده ۱۸۳ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ظِلَالِ السُّيُوفِ تَابَعَهُ الْأَوَيْسِيُّ عَنِ ( عبد العزیز ) اویسی نے بھی ابن ابی زناد سے، انہوں ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُّوْسَى بْنِ عُقْبَةَ۔ نے موسیٰ بن عقبہ سے ایسی ہی روایت کی۔ اطرافه: ٢٨٣٣، ٢٩٦٦، ٣٠٢٤، ٧٢٣٧۔ ۱۹ تشريح : ظِلُّ الْمَلَائِكَةِ عَلَى الشَّهِيدِ : باب ۱ ۲ تک شہداء کی فضیلت اورشہادت کے علو مرتبت میں چار ابواب قائم کئے گئے ہیں۔ باب ۲۲ کے عنوان میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عمرؓ کے دو حوالے نقل کر کے حدیث نمبر ۲۸۱۸ کا مفہوم واضح کیا گیا ہے ۔ بَارِقَةُ السُّيُوفِ کے معنی تلواروں کی چمک کے ہیں۔ ظِلَالُ السُّيُوفِ اور بَارِقَةُ السُّيُوفِ سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ کے حوالہ کے لئے دیکھئے کتاب الجزية باب روایت نمبر ۳۱۵۹، کتاب التوحید باب۴ روایت نمبر ۷۵۳۰۔ حضرت عمر کا یہ قول أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ حدیبیہ کے موقع کا ہے جبکہ حضرت عمرؓ نے ناگوار صورت حال سے متاثر ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا۔ باب ۲۳ : مَنْ طَلَبَ الْوَلَدَ لِلْجِهَادِ جس نے جہاد کے لئے اولاد چاہی ۲۸۱۹: وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ ۲۸۱۹ اور لیٹ ( بن سعد ) نے کہا: جعفر بن ربیعہ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن ہرمز سے سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ روایت کی ۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ﷺ سے سنا۔ وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ تھے۔ آپ نے فرمایا: سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے لَأَطُوْفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى مِائَةِ امْرَأَةٍ أَوْ کہا کہ میں آج رات ایک سو یا (کہا) نناوے بیویوں تِسْع وَتِسْعِيْنَ كُلُّهُنَّ يَأْتِي بِفَارِسٍ کے پاس چکر لگاؤں گا۔ ان میں سے ہر ایک سوار جنے يُجَاهِدُ فِي سَبِيْلِ اللهِ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ گی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان کے رفیق نے قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَاءَ الله ان سے کہا: کہو! اگر اللہ چاہے۔ مگر حضرت سلیمان نے فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ ان شاء اللہ نہ کہا۔ تب ان میں سے کوئی بھی حاملہ نہ جَاءَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ وَالَّذِي نَفْسُ ہوئی سوائے ایک عورت کے جو اُدھورا انسان جنی۔