صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 181
صحیح البخاری جلده ۱۸۱ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا منکدر سے سنا۔ انہوں نے حضرت جابر ( بن عبداللہ ) صلى الله کاٹ ڈالے گئے تھے اور انہیں آپ کے سامنے رکھا گیا۔ يَقُوْلُ جِيْءَ بِأَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله سے سنا کہتے تھے کہ میرا باپ نبی ﷺ کے پاس لایا گیا ایسی حالت میں کہ ان کے ناک، کان، ہاتھ اور پاؤں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مُثْلَ بِهِ وَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَذَهَبْتُ أَكْشِفُ عَنْ وَجْهِهِ میں جب ان کے چہرہ کو کھولنے لگا تو لوگوں نے مجھے فَنَهَانِي قَوْمِي فَسَمِعَ صَوْتَ نَائِحَةٍ روکا۔ اتنے میں آنحضرت ﷺ نے ایک چلانے والی فَقِيْلَ ابْنَةُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو فَقَالَ کی آواز سنی ۔ آپ سے کہا گیا کہ یہ عمر کی بیٹی ہے یا یہ لِمَ تَبْكِي أَوْ لَا تَبْكِي مَا زَالَتِ کہا کہ عمرو کی بہن ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ کیوں رو رہی الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا قُلْتُ ہے ؟ یا یہ فرمایا کہ وہ نہ روئے۔ ملائکہ تو عبد اللہ پر اپنے پروں سے سایہ کر رہے ہیں۔ (امام بخاری کہتے لِصَدَقَةَ أَفِيْهِ حَتَّى رُفِعَ قَالَ رُبَّمَا ہیں ) میں نے صدقہ سے پوچھا: کیا اس (حدیث) قَالَهُ۔ اطرافه: ١٢٤٤، 1٢٩٣، 4080۔ میں یہ (فقرہ ) بھی ہے کہ جنازہ اٹھائے جانے تک؟ انہوں نے کہا، کبھی سفیان نے ان الفاظ کا بھی ذکر کیا۔ بَاب ۲۱ : تَمَنِّي الْمُجَاهِدِ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا مجاہد کی تمنا کہ وہ دنیا میں پھر لوٹے ۲۸۱۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۸۱۷ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ (محمد بن جعفر ) نے ہمیں بتایا۔ (کہا کہ ) شعبہ نے قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔ وہ کہتے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله تھے: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سنا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى آپؐ نے فرمایا: شہید کے سوا کوئی بھی ایسا نہیں جو الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ يَتَمَنَّى جنت میں داخل ہو جائے اور پھر دنیا میں واپس آنا