صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 180
صحیح البخاری جلده ۱۸۰ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير بعض شارحین کے نزدیک آیت مندرجہ بالا کا تعلق بئر معونہ کے شہداء یا شہداء احد سے نہیں بلکہ شہداء بدر سے ہے۔ (دیکھئے عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحہ ۱۱۰ ۱۱۱) جنہوں نے اس کے نزول کا تعلق شہداء احد یا شہداء بئر معونہ سے بتایا ہے دراصل ان سب کی مراد تطبیق آیات ہی ہے۔ گویا یہ آیات ہر مماثل واقعہ پر چسپاں کی گئیں اور کی جاسکتی ہیں۔ غزوہ بدر ۲ھ میں ہوا اور غزوہ اُحد ۳ ھ میں اور واقعہ بئر معونہ ۴ھ میں ہوا۔ اس تسلسل واقعات سے بھی ظاہر ہے کہ آیات وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا۔ (آل عمران : ۱۷۰ تا ۱۷۲) کے شان نزول کی کیا حقیقت ہے۔ زیر باب دو روایتیں ہیں۔ ایک میں بئر معونہ کے واقعہ اور قاریوں کی شہادت کا ذکر ہے جو روایت نمبر ۲۸۰۱ میں بھی گذر چکا ہے۔ (دیکھئے باب (۹) زیر باب روایت (نمبر ۲۸۱۴) اور سابقہ روایت (نمبر ۲۸۰۱) کے الفاظ میں فرق ہے۔ پہلی روایت میں ہے فَكُنَّا نَقْرَأُ اور اس میں ہے أُنْزِلَ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةً قُرْآنٌ قَرَأْنَاهُ ثُمَّ نُسِخَ ۔ دونوں روایتیں مختلف الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ اس اختلاف الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایات ضبط الفاظ کے لحاظ سے محفوظ نہیں۔ پہلی روایت حفص سے مروی ہے جن کے اسلوب بیان سے متعلق شارحین کو وقت پیش آئی ہے۔ روایت زیر ۔ باب اسمعیل بن عبداللہ سے مروی ہے۔ نیز کتاب المغازی باب ۲۸ میں یہ روایت متعددسندوں سے مرو سے مروی ہے۔ رعمل، ذکوان اور خصیہ بنی سلیم کے قبائل تھے۔ بئر معونہ کا چشمہ نجد کے راستہ پر بنو عامر اور بنو سلیم کے علاقہ میں تھا۔ ان قبائل کے خلاف دعا کا ذکر کتاب الوتر باب کے میں بھی گذر چکا ہے۔ نیز مزید وضاحت کے لئے کتاب المغازی باب ۲۸ بھی دیکھئے۔ روایت نمبر ۲۸۱۵ کے آخری حصہ سے مراد یہ ہے کہ سفیان بن عیینہ سے کہا گیا کہ سنا گیا ہے کہ غزوہ اُحد کی صبح کو لوگ شراب پی کر میدانِ جنگ میں نکلے اور اسی دن شام کو کام آئے تو انہوں نے کہا کہ ان کی شنیدہ روایت میں مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ کے الفاظ نہیں۔ ہاں جو روایت اسماعیلی نے سفیان ہی سے نقل کی ہے اس میں یہ زیادتی موجود ہے اور اس کے یہ الفاظ ہیں : اِصْطَبَحَ قَوْمٌ الْخَمْرَ أَوَّلَ النَّهَارِ وَقُتِلُوا آخِرَ النَّهَارِ شُهَدَاءَ - امام بخاری نے کتاب المغازی میں سفیان سے یہی روایت بواسطہ عبداللہ بن محمد نقل کی ہے اس میں بھی یہ الفاظ نہیں۔ سورہ مائدہ کی تفسیر میں صدقہ بن فضل کی روایت سفیان ہی سے بیان کرتے ہوئے مِنْ يَوْمِهِمْ جَمِيعًا کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ اس جگہ علی بن عبداللہ کی روایت سے زائد حصہ رہ کر دیا گیا ہے۔ بَاب ۲۰ : ظِلُّ الْمَلَائِكَةِ عَلَى الشَّهِيدِ شہید پر فرشتوں کا سایہ ٢٨١٦ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۲۸۱۶ صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعْتُ (سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے محمد بن