صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 179
صحيح البخاری جلده ۱۷۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير دَعَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے بئر معونہ والوں عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوْا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُوْنَةً یعنی ستر قاریوں ) کو مارڈالا تھا، تمیں دن تک صبح کے ثَلَاثِيْنَ غَدَاةَ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وقت دعا کی۔ یعنی رعل، ذکوان اور عصیہ پر۔ ان وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ قَالَ (قبیلوں) نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ حضرت انس کہتے تھے: ان لوگوں کے بارے میں جو ا أَنَسٌ أُنْزِلَ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِسِخْرِ مَعُونة برمعونہ میں قتل کئے گئے قرآن نازل ہوا تھا۔ ہم اسے قُرْآنٌ قَرَأْنَاهُ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ بَلِّغُوا پڑھتے رہے پھر اس کے بعد ترک ہو گیا۔ یعنی یہ کہ قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِيْنَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے آملے وَرَضِيْنَا عَنْهُ۔ ہیں وہ ہم سے راضی ہوا ہم اس سے راضی ہو گئے ۔ اطرافه: ۱۰۰۱ ، ۱۰۰۲، ۱۰۰۳، ۱۳۰۰، ۲۸۰۱، ۳۰۶۴، ۳۱۷۰، 408۸، 4089، 4090، ٤٠٩٢، ٤٠٩٤، ٤٠٩٥ ، ٤٠٩٦، ٦٣٩٤، ٧٣٤١ ، 091 ٢٨١٥ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۸۱۵ علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے روایت ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اصْطَبَحَ نَاسٌ الْخَمْرَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: اُحد کی جنگ میں کچھ لوگوں نے ایک صبح شراب پی۔ پھر وہ میدانِ جنگ میں ہی قتل قُتِلُوا شُهَدَاءَ فَقِيلَ لِسُفْيَانَ مِنْ آخِرِ کئے گئے ۔ سفیان سے پوچھا گیا: کیا یہ الفاظ روایت ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ لَيْسَ هَذَا فِيْهِ۔ میں ہیں کہ ) اس دن پچھلے وقت میں ( قتل ہوئے؟) اطرافه: ٤٠٤٤، ٤٦١٨ انہوں نے کہا: یہ تو اس روایت میں نہیں ۔ تشريح : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا: :: معنونہ آیتوں میں شہداء فی سبیل اللہ زندہ قرار دیئے گئے ہیں۔ جنہیں ان کے رب کے پاس رزق ملتا ہے جس سے وہ خوش و خرم ہیں اور ان کے ہم مذہبوں کے بارہ میں انہیں بشارتیں دی جاتی ہیں جس سے ان کو تسلی ہوتی ہے کہ ان کا خون رائیگاں نہیں گیا۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت فراواں اور اس کے فضل عظیم سے سرفراز ہوئے۔ اس تعلق میں تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مصلح موعود ، رضي عنه، تفسیر رسوره مریم آیت ۱۶ ، جلد ۵ صفحه ۱۴۹-۱۵۱ بھی و ابھی دیکھئے جہاں آپ نے تفصیل سے بتایا ہے کہ ز ، بتایا ہے کہ کس طرح سے ان کی شہادت سلامتی نعمت اور فضل عظیم کا سبب ہوئی۔