صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 178 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 178

صحيح البخاري۔جلده تشریح IZA ۵۶ - كتاب الجهاد والسير الْغُسُلُ بَعْدَ الْحَرْبِ وَالْغُبَارِ : شارمین کی رائے میں یہ باب اس وہم کے ازالہ کی غرض سے قائم کیا گیا ہے کہ غبار آلود بدن کو صاف کرنا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کی وجہ سے متبرک ہے اس لئے غبار کو دور نہ کیا جائے۔اسلام نے طہارت و نظافت کو ایمان کی علامت بتایا اور صحت عبادت کے لئے اسے اہم شرط قرار دیا ہے۔جیسا کہ مسائل وضو اور غسل سے ظاہر ہے۔غزوہ خندق اور اس کے بعد غزوہ بنو قریظہ کے تعلق میں کتاب المغازی باب ۲۹ ۳۰ دیکھئے۔، بَابِ ۱۹ : فَضْلُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوْا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ان لوگوں کی فضیلت جن سے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں تم انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ) وہ تو اپنے رب کے حضور زندہ ہیں انہیں رزق دیا جاتا فَرِحِينَ بِمَا الهُمُ اللهُ مِن ہے۔وہ اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ ہے خوش ہیں اور ان لوگوں کے متعلق جو ابھی ان کے لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا پیچھے سے آکر ان سے ملے نہیں خوش ہیں کیونکہ انہیں اور ان کے ہم مذہبوں کو ) کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَه و غمگین ہوں گے۔ہاں وہ اس بڑی نعمت پر جو اللہ کی يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللهِ طرف سے انہیں عطا ہوئی ہے اور اس کے فضل پر وَفَضْلٍ وَاَنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ اور اس بات پر کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا الْمُؤْمِنِينَ ) (آل عمران: ۱۷۰-۱۷۲) خوش ہو رہے ہیں۔٢٨١٤: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ ۲۸۱۴ : اسماعیل بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے اسحق بن عبد اللہ بن ابی إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ طلحہ سے ، الحق نے حضرت انس بن مالک دن سے عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم