صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 177
صحيح البخاری جلده ۱۷۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير رَّأْسِهِ الْغُبَارَ وَقَالَ وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ في صلى اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور آپ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللهِ نے ان کے سر سے غبار پونچھا اور فرمایا: افسوس! باغی وَيَدْعُوْنَهُ إِلَى النَّارِ۔ طرفه: ٤٤٧ گروہ انہیں مار ڈالے گا۔ عمار ان کو اللہ کی طرف بلا رہا ہوگا اور وہ اس کو آگ کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ تشريح : تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَيَدْعُوْنَهُ إِلَى النَّارِ: حضرت علی کی خلافت کے وقت حضرت عمار بن یاسر آپ کے پر جوش مددگاروں میں سے تھے اور جنگ صفین میں رم امیر معاویہ کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ حضرت عمار بن یاسر سے متعلق ارشاد نبوی کی تشریح کے بارہ میں کتاب الصلاة باب ۶۳ روایت نمبر ۴۴۷ دیکھئے۔ باب ۱۸ : الْغُسْلُ بَعْدَ الْحَرْبِ وَالْغُبَارِ جنگ اور غبار آلود ہونے کے بعد نہانا ۲۸۱۳: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۲۸۱۳ : محمد بن سلام ) نے ہم سے بیان کیا کہ عبدہ عَبْدَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عائشہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ يَوْمَ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب خندق کی جنگ سے واپس لوٹے اور آپ نے ہتھیار اُتار الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السَّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ دیتے اور نہائے تو اس وقت جبرائیل آپ کے پاس آئے اور حالت یہ تھی کہ غبار آپ کے سر پر پگڑی کی الْغُبَارُ فَقَالَ وَضَعْتَ السّلَاحَ فَوَاللَّهِ طرح لپٹا ہوا تھا۔ (جبرائیل نے آنحضرت ﷺ سے ) الله مَا وَضَعْتُهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله کہا: آپ نے آپ نے ہتھیار اُتار دیئے ہیں۔ بخدا ں۔ بخدا میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ قَالَ هَا هُنَا وَأَوْمَاً تو نہیں اُتارے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھر إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ قَالَتْ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ کہاں جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: ادھر اور بنی قریظہ کی رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ طرف اشارہ کیا۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے ۔ اطرافه: ٤٦٣، ۳۹٠١، ٤١١٧، ٤١٢٢۔