صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 176 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 176

صحيح البخاری جلده ۱۷۶ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ہیں جو جُهْدَهُ وَاسْتَنْفَدَ وُسْعَهُ۔ حدیث مذکورہ باب میں اللہ کے راستے میں جدو جہد کی عظمت کا پتہ چلتا ہے کیونکہ جب فی سبیل اللہ سفر کرتے ہوئے قدموں پر غبار پڑنے سے نار جہنم حرام ہو جاتی ہے تو اس شخص کی کتنی عظمت ہوگی جو اپنی پوری قوت، یاقت اور کوشش سے خدا ن ش سے خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت میں لگ جاتا ہے۔ یو جاتا ہے۔ بعض اور روایات بھی کتب حدیث میں آئی ہیں اس حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہیں۔ چنانچہ طبرانی نے اپنی کتاب اوسط میں حضرت ابودر ابو درداء کی مرفوع حدیث نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں : مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ مِنْهُ النَّارَ مَسِيْرَةَ أَلْفَ عَامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْتَعْجِل۔ یعنی جس کے پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوئے اللہ اس سے نار جہنم کو اتنے فاصلے پر دور کر دے گا جتنا فاصلہ ایک تیز رفتار سوار ایک ہزار سال میں کر سکتا ہے۔ ابن حبان نے بھی حضرت جابر کی ایک اور روایت انہی معنوں میں نقل کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۸) یہ روایت بظاہر ایسے زمانے کی معلوم ہوتی ہے جب اخروی عذاب و ثواب مبالغہ آمیز تمثیلوں سے بیان کرنا جائز ہے بیان کرنا جائز سمجھا جانے لگا ۔ امام بخاری نے دونوں ابواب سے : ابواب سے جہاں جہاد کا مفہوم واضح کیا ہے وہاں مذکورہ روایتوں کی صحت لفظی بھی مد نظر ہے۔ بَاب ۱۷ : مَسْحُ الْغُبَارِ عَنِ الرَّأْسِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ اللہ کی راہ میں جن لوگوں پر گرد پڑی ہو ان سے گرد پونچھنا ۲۸۱۲ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۲۸۱۲ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عبد الوہاب ( ثقفی) نے ہمیں خبر دی۔ خالد ( حذاء ) عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ لَهُ نے ہمیں بتایا، (کہا:) مکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت وَلِعَلِي ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْتِيَا أَبَا سَعِيدٍ عبد اللہ بن عباس نے ان سے اور (اپنے بیٹے ) علی بن فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيْثِهِ فَأَتَيَا وَهُوَ عبد الله سے کہا: حضرت ابوسعید (خدری) کے پاس وَأَخُوهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ فَلَمَّا جاؤ اور ان کی بات سنو۔ ہم سے ان کے پاس آئے اور وہ اور ان کا بھائی اپنے ایک باغ میں تھے جسے وہ پانی رَآنَا جَاءَ فَاحْتَبَى وَجَلَسَ فَقَالَ كُنَّا دے رہے تھے۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو وہ نَنْقُلُ لَبِنَ الْمَسْجِدِ لَبِنَةً لَبِنَةً وَكَانَ آئے اور گوٹھ مار کر بیٹھ گئے اور انہوں نے کہا: ہم عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ مسجد نبوی بنتے وقت اینٹیں ایک ایک کر کے لاتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَنْ تھے اور عمار بن یاسر) دو دو اینٹیں اُٹھا کر لاتے تھے۔ ) لے عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ الناس ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحہ ۱۰۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ فَأَتَيْنَاهُ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۱۰۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔