صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 175
صحیح البخاری جلده ۱۷۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ بیان کیا ۔ کہا کہ یزید بن ابی مریم نے مجھ سے بیان کیا أَخْبَرَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ که عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے ہمیں خَدِيجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْسٍ هُوَ خبر دی ۔ کہا کہ حضرت ابوعیس عبدالرحمن بن جبڑ نے عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَبْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا اغْبَرَّتَا نہیں ہو سکتا کہ اللہ کی راہ میں کسی بندے کے قدم غبار قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ آلود ہوں اور پھر آگ اس کو چھو جائے۔ طرفه: ۹۰۷ سے تشريح : إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ: شاری نے الفاظ میں اللہ ے صف دشمن کا مقابلہ ہی مراد نہیں لیا بلکہ اطاعت الہی سے متعلقہ تمام امور مراد لئے ہیں اور حضرت امام بخاری نے جس آج آیت کا حوالہ دیا ہے اس سے بھی یہی بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے۔ اس آیت میں سبیل اللہ کے کے بعد وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ کا جملہ ہے جو الگ ہے اور حرب وقتال سے مخصوص ہے۔ آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ - احسان عربی میں ایسے عمل کو کہتے ہیں جس کا حسن خوبی کمال کی وجہ سے نمایاں ہو محولہ بالا آیت میں سب سے پہلے تقویٰ اختیار کرنے کی اور صادقوں کے گروہ میں شامل ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔ پھر فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اختیار کریں اور کسی بات میں ادھر اُدھر نہ ہوں بلکہ قدم بقدم آپ کی پیروی کریں۔ اسی ضمن میں فرمایا کہ جو نیکی بھی کریں اس میں اعلیٰ درجہ کا کمال پیدا کریں تا ابدی نجات حاصل ہو۔ ساری آیت یہ ہے: مَا كَانَ ِلأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَا وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَطَؤُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُةٍ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (التوبة: ١٢٠) اہل مدینہ اور جو ان کے ارد گرد دیہاتی اور جنگلی رہتے ہیں ان کو مناسب نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو اکیلا چھوڑ کر آپ پیچھے رہ جاتے اور نہ یہ کہ اس کی جان سے بے پرواہ ہو کر اپنی جانوں کی فکر میں لگ جاتے ۔ یہ فیصلہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ کوئی پیاس یا تھکان یا بھوک کی گھڑی ان پر اللہ کے راستے میں نہیں آتی اور نہ وہ کسی زمین پر قدم مارتے ہیں جو کفار کو غصہ دلاتا ہو اور نہ وہ دشمن پر کوئی فتح پاتے ہیں کہ ان کے لئے اس کے بدلے میں نیک عمل نہ لکھا جاتا ہو۔ اللہ تعالی محسنوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ اس باب سے جہاد کا مفہوم واضح کیا گیا ہے کہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے سرتا پا کوشش کا نام جہاد ہے۔ امام ابن حجر نے اس اہم نکتہ کی طرف اپنی شرح میں ان الفاظ سے توجہ دلائی ہے۔ لکھتے ہیں : وَفِي ذَلِكَ إِشَارَةٌ إِلَى عَظِيمٍ قَدَرِ التَّصَرُّفِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِذَا كَانَ مُجَرَّدُ مَسَّ الْغُبَارِ لِلْقَدَمِ يَحْرُمُ عَلَيْهَا النَّارَ فَكَيْفَ بِمَنْ سَعَى وَبَذَلَ ط