صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 164
صحيح البخاری جلده ۱۶۴ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ١٠ : مَنْ يُجْرَحُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ جو اللہ عز وجل کی راہ میں زخمی ہو ۲۸۰۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۸۰۳: عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزَّنَادِ عَن مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابی زناد سے، اب زناد الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے اعرج سے ، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُظْلَمُ أَحَدٌ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو اللہ کی راہ میں زخمی ہو اور فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُظْلَمُ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا سَبِيْلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّوْنُ ہے۔مگر وہ ضرور قیامت کے روز اس حالت میں آئے لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيْحُ رِيْحُ الْمِسْكِ۔اطرافه: ۲۳۷، ٥٥٣٣ گا کہ رنگ تو خون کا رنگ ہوگا اور خوشبو مشک کی سی۔تشریح : مَنْ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: يہ باب اس لئے باندھ گیا ہے کہتا تایا جائے جوشخص محض اعلائے کلمتہ اللہ کی خاطر زخمی ہوتا ہے یا دُکھ اُٹھاتا ہے تو اس کا اس کو اجر ملے گا۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ : جملہ معترضہ ہے جس سے اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ ثواب کا دار ومدار نیت پر ہوتا ہے۔اس لئے خالص نیت سے جو کام ہو اس میں ثواب یقینی ہے۔اس کے علاوہ ترندگی، ابن حبان اور ابوداؤد کی تصحیح روایت بھی مقصود ہے جو حضرت معاذ بن جبل سے منقول ہے اور جس کے الفاظ یہ ہیں: هَنُ رِحَ جُرُحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةٌ فَإِنَّهَا تَجِيُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا الزَّعْفَرَانُ بحُهَا الْمِسْكُ اس روایت کی تمثیل کا تعلق زخموں کی نوعیت سے ہے اور حضرت ابو ہریرہ کی تمثیل والی روایت کا تعلق مجروح فی سبیل اللہ سے ہے۔دونوں روایتوں کے الفاظ میں فرق ہے مگر مذکورہ بالا روایت امام بخاری کے معیار صحت پر نہیں اس لئے وہ نظر انداز کی گئی ہے۔اگر چہ دونوں میں اخروی ثواب کو مثال سے واضح کیا گیا ہے اور اخروی عقاب بھی تمثیل ہی سے بیان ہوا ہے۔(ترمذی، كتاب فضائل الجهاد، باب ما جاء فيمن يكلم في سبيل الله) (ابوداؤد ، کتاب الجهاد، باب فیمن سأل الله تعالى الشهادة) (صحیح ابن حبان كتاب الجنائز، باب المريض وما يتعلق به)