صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 165 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 165

صحيح البخاری جلده ۱۶۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير باب ۱۱ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ط (التوبة : ٥٢) اللہ عزوجل کا یہ فرمانا: تو کہہ دے دو بھلائیوں میں سے ایک کے سوا تم ہمارے لئے کسی بات کا انتظار بات کا انتظار نہیں کرتے وَالْحَرْبُ سِجَالٌ۔ ۔ اور لڑائی تو ڈول ہے ( کبھی ادھر کبھی اُدھر ) ٢٨٠٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۲۸۰۴: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ نے ہمیں بتایا، کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبداللہ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے انہیں أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ هِرَقْلَ خبر دی کہ ابو سفیان بن حرب نے ان کو بتایا کہ ہر قتل نے اس سے کہا: میں نے تجھ سے پوچھا تھا کہ اس قَالَ لَهُ سَأَلْتُكَ كَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ پیغمبر سے تمہاری لڑائی کی کیا حالت رہتی ہے تو تو نے فَزَعَمْتَ أَنَّ الْحَرْبَ سِجَالٌ وَدُوَلٌ کہا کہ لڑائی ڈولوں کی طرح ہے کبھی ادھر اور کبھی فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُمَّ تَكُوْنُ لَهُمُ ادھر ، اسی طرح رسول آزمائے جاتے ہیں مگر اچھا الْعَاقِبَةُ۔ انجام انہی کا ہوتا ہے۔ اطرافه ٧، ٥١ ، ٢٦٨١، ۲٩٤١، ۲۹۷۸، ۳۱۷۴، ٤٥٥٣ ، ٥٩٨٠ ، ٦٢٦٠، ٧١٩٦، ٧٥٤١۔ تشريح : فَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ: باب مذکور ہال میں اس مہم کا ازالہ کیا گیا ہے کہ مجاہد فی سبیل اللہ کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ اللہ کا سپاہی ہے۔ جسمانی تکلیف سے ہر طرح مامون و محفوظ رہے گا درست نہیں۔ مجاہد کو تو نشانہ مصائب بنا پڑتا ہے۔ مد مقابل پر فتح پائے یا اس کے ہاتھوں مارا جائے وہ بہر حال ظفر مند ہے اور اس کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ اس مضمون کے تعلق میں ایک حوالہ قرآن مجید کی اس آیت کا دیا گیا ہے : قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَنْ يُصِيبَكُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا - فَتَرَبَّصُوا إِنَّا مَعَكُمْ مُتَرَبِّصُونَ ) (التوبة: (۵۲) تو (ان سے) کہہ دے دو بھلائیوں میں سے ایک کے سوا تم ہمارے لئے کسی بات کا انتظار نہیں کرتے اور ہم تمہارے لئے صرف اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں سے عذاب پہنچائے گا۔ پس تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں اور دوسرا حوالہ ہرقل کے قول کا ہے جو نہ صرف یہ کہ اہل کتاب میں سے تھا بلکہ عالم تو رات اور انجیل بھی۔ اس لئے اس کا