صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 163
صحيح البخاری جلده ۱۶۳ ۵۲ - كتاب الجهاد والسير نام جسے بھیجوایا گیا تھا حرام بن ملحان ہے۔ قبائل رعل ، بنو لحیان، عُصِیّہ اور ذکوان بنوسلیم میں سے تھے اور انہوں نے شب خون مارا تھا اور ان کے خلاف مہینہ بھر دعا کی گئی۔ ان کا سردار عامر بن طفیل اسلام کا بدترین دشمن تھا۔ وفد کی اطلاع پا کر وہ پوری تیاری کے ساتھ ان کی گھات میں بیٹھ گیا اور سوئے ہوئے لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑا۔ اس تعلق میں كتاب الجزيه باب ۸ نیز کتاب المغازی باب ۲۸ بھی دیکھئے۔ فُرْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ: رب کعبہ کی قسم ! میں نے اپنی مراد پالی ۔ حضرت حرام بن ملحان کا یہ ایمان افروز بے ساختہ فقرہ بعض کے لئے ہدایت کا موجب ہوا ۔ جس کی تفصیل اپنے موقع پر آئے گی کہ ان قاریوں کی مذکورہ بالا شہادت و قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا : حضرت جبرائیل کی پیغام رسانی کا یہ کلام موزوں ایک عرصہ تک درد زبان رہا۔ شدید صدمہ کی وجہ سے اور غم غلط کرنے کے لئے وہ بار بار دہرایا جاتا تھا۔ روایت زیر باب سے یہ مراد نہیں کہ مذکورہ بالا فقرہ بطور قرآت نماز میں پڑھا جاتا تھا۔ لفظ قرآت عام پڑھنے اور لفظ نسخ محض ترک کرنے کے معنوں میں عموماً استعمال ہوتا ہے۔ پس پڑھنے سے مراد صرف یہ ہے کہ یہ کلام موزوں ایک عرصہ تک لوگوں کی زبان پر جاری رہا اور پھر ایک عرصہ گزرنے پر یہ ذکر ختم ہو گیا۔ صحابہ کرام کی غلط فہمی بہت جلد دور ہوگئی تھی ۔ اس تعلق میں باب ۱۹ کی تشریح بھی دیکھئے۔ هَلْ أَنْتِ إِلَّا اصْبَعُ دَمِيْتِ ۔۔۔۔۔۔ باب کی دوسری روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کا جو حادثہ مذکور ہے بعض شارحین کے نزدیک غزوہ احد اور بعض کے نزدیک غزوہ خندق میں پیش آیا تھا۔ے ایک پتھر لگنے سے آپ کی انگلی زخمی ہوئی اور آپ نے فِي سَبِيلِ اللهِ مَا لَقِيتِ کہہ کر اسے معمولی زخم قرار دیا اور اس کے ساتھ زخمی انگلی کی عظمت کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے، جسے ایسے وقت میں زخم پہنچا جبکہ آپ مصروف جہاد تھے۔ صحیح مسلم کی روایت میں لفظ في غار ہے جس کے معنی فوج یا فوج کشی اور چڑھائی کے کئے گئے ہیں اور اس کی تصدیق صحیح بخاری کی روایت زیر باب سے بھی ہوتی ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۴ ۱ صفحه ۹۹) (لسان العرب صبع) المفصل في الرد على شبهات أعداء الإسلام، الباب الخامس، شبهات حول السنة النبوية، جزء ٠ ا صفحه ۲۱۴) (مسلم، كتاب الجهاد والسير ، باب ما لقي النبي من أذى المشركين والمنافقين)