صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 162 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 162

صحيح البخاری جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير پر واقع ہے۔قبیلہ بنو عامر کے سردار ابو براء عامر بن مالک بن جعفر کی درخواست پر کہ اسے دین اسلام پسند ہے اور اس کی خواہش ہے کہ وہ مع اپنی قوم کے مسلمان ہو جائے۔اس کے ساتھ چند صحابی بھیجے جائیں تا وہ نجد میں ان کی قوم کو اسلام سے آگاہ کریں۔( الطبقات الكبرى لابن سعد ، سرية المنذر بن عمرو ، جزء ۲ صفحه ۵۱-۵۲) آنحضرت ﷺ نے جیسا کہ روایت زیر باب میں ہے ستر قاریوں کا وفد اس کے ساتھ بھیجا۔اس واقعہ کی تفصیل کے لئے کتاب المغازی زیر باب ۲۸ بھی دیکھئے۔یہاں جہاد اور شہادت کے تعلق میں اس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ وفد دراصل خالص تبلیغی تھا جس کے افراد شہید کئے گئے۔ان پر قبیلہ بنوسیم کے لوگوں نے شب خون مارا اور صحابہ کرام نے اپنے دفاع میں ان ظالموں کا مقابلہ کیا مگر چونکہ دشمن بہت بڑی تعداد میں تھا اور حملہ بھی اچانک تھا اس لئے ان میں سے ایک شخص کے سوا کوئی نہ بچا۔آنحضرت ﷺ اور صحابہ کو جتنی لڑائیاں لڑنا پڑیں وہ سب دفاعی تھیں اور غایت درجہ مظلوم و مجبور ہونے کی حالت میں لڑی گئیں۔بَعَثَ النَّبِيُّ عَل أَقْوَامًا مِن بَنِى سُلَيْمٍ إِلَى بَنِی عَامِرٍ : اس روایت (نمبر ۲۸۰ ) کے راوی حفص بن عمر الحوضی ہیں جو امام بخاری کے شیخ ہیں۔یہ بغداد کے اس محلہ کے رہنے والے تھے جس کا نام حوض تھا۔ان کا بیان ترکیب نحوی کے لحاظ سے بظاہر مخدوش ہے جسے شارحین نے مختلف لغوی تو جیہات سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔اس جملہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنی سلیم کے کچھ لوگوں کو بنو عامر کی طرف بھیجا۔یہ بیان محل نظر ہے کیونکہ مذکورہ بالا قاری بنوسلیم قبیلہ سے نہ تھے ، ہاں قبائل بنو عامر کی طرف بھیجے گئے تھے جبکہ ان کے سردار نے قاریوں کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدشہ تھا کہ مخالف ان کو نقصان نہ پہنچائیں اور یہی وجہ تھی کہ اس وفد میں شامل ہونے والوں کی تعداد زیادہ کی گئی تھی کہ اگر ان سے دھوکہ وفریب ہو اور لڑنا پڑے تو وہ مقابلہ کر کے اپنا بچاؤ کر سکیں۔یہ تعداد عام حالات میں مقابلہ کے لئے کافی تھی۔مہمات نبویہ میں بالعموم مختصر دوستوں ہی نے بڑی تعداد والے دشمنوں کو میدانِ جنگ میں مغلوب کیا ہے۔لیکن یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا تھا جب صحابہ سوئے ہوئے تھے اور خلاف توقع تھا۔اس امر واقعہ کے پیش نظر بَعَثَ النَّبِيُّ أَقْوَامًا مِنْ بَنِى سُلَيْمٍ إِلَى بَنِی عَامِرٍ کی عبارت یوں ہے: بَعَثَ إِلَى أَقْوَامٍ مِن بَنِي سُلَيْمٍ إِلَى بَنِي عَامِرٍ۔گویا اقوام سے پہلے حرف جار اِلی محذوف ہے اور یہ معروف قاعدہ ہے کہ جب حرف الی محذوف ہو تو اس کے بعد آنے والے اسم پر زبر آجاتی ہے۔عرب لوگ بات کرنے میں اختصار پسند تھے۔اس لئے واقعہ بئر معونہ بیان کرتے ہوئے اس میں اختصار سے کام لیا گیا ہے۔نیز چونکہ یہ واقعہ ایک مشہور واقعہ تھا، اس میں غلطی لگنے کا احتمال نہ تھا اور عرب لوگ ایسی تراکیب کے استعمال کے خوگر تھے اس لئے حرف جار حذف کر دیا گیا۔پس حضرت امام بخاری کی اس روایت پر اعتراض درست نہیں کہ انہوں نے واقعہ غلط نقل کیا ہے۔امام ابن حجر کی اس بارے میں تشریح واضح ہے کہ حضرت انس کے ماموں بنو سلیم میں سے تھے جو قائد وفد تھے۔اس لئے ان کے ساتھی بنو سلیم کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ان کے نزدیک عبارت یوں ہے : بَعَثَ أَقْوَامًا مَّعَهُمْ أَخُو أَمَ سُلَيْمٍ إِلَى بَنِي عَامِرٍ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۵) که حضرت ام سلیم کے بھائی کے ساتھ چندلوگوں کو بنی عامر کی طرف بھیجا گیا۔حضرت ام سلیم حضرت انسؓ کی والدہ تھیں اور ان کے بھائی کا