صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 157 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 157

صحيح البخاري۔جلده ۱۵۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَس (سختیانی) سے ، ایوب نے محمید بن ہلال سے، محمید ابْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخَذَ انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيْبَ ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ زید بن حارثہؓ) نے جھنڈا لیا اور وہ شہید ہوئے۔پھر اس کو جعفر ( بن ابی طالب) نے لیا۔پھر وہ بھی شہید فَأَصِيْبَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ہوئے۔پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے لیا وہ بھی شہید فَاصِيْبَ ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ہوئے۔پھر خالد بن ولیڈ نے اسے لیا بغیر اس کے کہ وہ عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ لَهُ وَقَالَ مَا يَسُرُّنَا امیر بنائے گئے ہوں۔تب ان کیلئے فتح ہوئی اور فرمایا: أَنَّهُمْ عِنْدَنَا قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ مَا ہمیں اس سے خوشی نہیں کہ وہ ہمارے پاس رہتے۔يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ایوب نے کہا: یا آپ نے یوں فرمایا: انہیں یہ بات خوش نہیں کرتی کہ وہ ہمارے پاس رہتے۔( یہ مضمون بیان کرتے وقت ) آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔اطرافه: ١٢٤٦، ٣٠٦٣، ٣٦٣٠ ٣٧٥٧ ٤٢٦٢۔تشریح: تَمَنِّي الشَّهَادَةِ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا تمنائے شہادت کے تعلق میں کتاب الإیمان باب ۲۶ بھی دیکھئے۔صحابہ کرام کے فدا کارانہ نمونے کی چند مثالیں روایت زیر باب حضرت انس کے حوالے سے درج ہیں۔مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمُ عِندَنَا : بی شک ایوب راوی کا ہے کہ حضرت انس نے مذکورہ جملوں میں سے کون سا جملہ کہا۔پہلا جملہ قابل ترجیح ہے کیونکہ شہید کے لوٹنے کی خواہش کا ذکر سابقہ باب کی روایت میں گذر چکا ہے۔غزوہ موتہ میں مذکورہ بالا صحابہ کرام شہید ہوئے تھے۔(دیکھئے کتاب المغازی، باب ۴۴) علامہ ابن حجر نے جملہ لَو لَا أَنَّ رِجَالًا مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ لَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمُ سے ایک لطیف استدلال کیا ہے کہ جملہ معترضہ وَلَا أَجِدُ مَا اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ سے ان صحابہ کی دلجوئی فرمائی جو جنگ میں شریک نہ ہو سکے، اس وجہ سے کہ ان کے لئے سواری کا انتظام نہ کیا جاسکا ورنہ وہ تو جہاد کی خواہش رکھتے تھے۔اور آپ نے غازیوں کی بھی یہ کہہ کر ہمت افزائی فرمائی کہ بعض اوقات میرے غزوہ میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان پیچھے رہ جانے والوں کی دلداری ہو ورنہ جہاد فی سبیل اللہ اتنی محبوب شے ہے کہ میری آرزو ہے کہ اس راہ میں شہید ہو جاؤں پھر زندہ ہو کر بار بار شہید ہوں۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۱)