صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 155
البخاری جلده صحيح ۱۵۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير سَوْطَهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا وَلَوْ أَنَّ (فرمایا) اس کے کوڑے کے برابر جگہ بھی دنیا و مافیہا امْرَأَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى أَهْلِ سے بہتر ہے۔اور اگر جنت والوں میں سے کوئی عورت الْأَرْضِ لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا وَلَمَلَأَتْهُ زمین والوں کی طرف جھانکے تو وہ ( زمین و آسمان ) دونوں میں جو کچھ ہے سب کو روشن کر دے، اور وہ خوشبو سے مہک جائیں اور اس کی اوڑھنی جو اس کے سر پر ہے، دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔رِيحًا وَلَنَصِيْفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا۔اطرافه: ۲۷۹۲، ٦٥٦٨ تشریح: الْحُورُ الْعِيْنُ وَصِفَتُهُنَّ : حُوْرٌ عِيْنٌ جو جنت کی موعودہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔اس کا سابقہ ابواب کے تعلق میں ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ یہ نعمت بھی فریضہ جہاد کی ادائیگی سے وابستہ ہے۔اس ضمن میں جن آیات کریمہ کا حوالہ دیا گیا ہے وہ قرآن مجید میں دو جگہ وارد ہوئی ہیں۔اول سورۂ دخان آیت ۵۵ ، دوم سورہ طور آیت ۲۱۔اول الذکر کے سیاق کلام کا تعلق نعیم اُخروی سے ہے۔جیسا کہ فرمایا: لَا يَذُوقُوْنَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الأولى (الدخان: ۵۷) متقی ابدی حیات کے وارث ہوں گے۔ثانی الذکر کا تعلق نعیم دنیوی سے ہے جیسا کہ آیات کے آخر میں فرمایا: قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي اَهْلِنَا مُشْفِقِينَ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَنَا عَذَابَ السَّمُومِ (الطور : ۲۷-۲۸) وہ کہیں گے یقیناً ہم تو اس سے پہلے اپنے اہل و عیال میں بہت ڈرے ڈرے رہتے تھے۔پس اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں جھلسا دینے والے لپیٹوں کے عذاب سے بچایا۔} یہ نجات اور نعمت؛ انقلاب خیز جہاد عظیم کے بعد حاصل ہوگی۔اس انقلاب کے تعلق میں آیات سورۃ الواقعہ دیکھئے جو دنیوی و اخروی جزا سزا کے ذکر پر حاوی ہیں۔نیز اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلده اصفحہ ۳۸۵ تا ۴۰۰ بھی دیکھئے۔ان تینوں سورتوں میں ” جنات نعیم "حور عین» مع عرش کی جانشینی کا ذکر کھلے الفاظ میں بطور ایک عظیم الشان پیشگوئی کیا گیا ہے اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا انحصار جہاد پر ہے۔جہاں تک اس کا تعلق دنیا سے ہے جس شان میں وہ پوری ہوئی، سارا جہان اس کا گواہ ہے اور حیات آخرت میں وہ کس شان سے ظہور پذیر ہوگی دنیا کی زندگی میں اس کا تصور کرنا ناممکن ہے۔فرماتا ہے : فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أَخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (السجدة:۱۸) پس کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ اُن کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس کی جزا کے طور پر جو وہ کیا کرتے تھے۔اور زیر باب حدیث نمبر ۲۷۹۵ میں بھی یہی مضمون تمثیلاً بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ موعودہ جنت الفردوس میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص نہیں چاہے گا کہ وہ اس سے نکل کر دوبارہ دنیا میں آئے ، خواہ اسے دنیا کی ساری نعمتیں دیئے جانے کا لالچ کیوں نہ دیا جائے۔البتہ مجاہد شہید ضرور یہ خواہش کرے گا کہ وہ دنیا میں دوبارہ آئے اور اللہ کی راہ میں پھر شہید ہو کیونکہ وہ اس شہادت کا ایسا بدلہ پاچکا ہوگا کہ اس کے اندر بار بار جام شہادت پینے کی خواہش پیدا