صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 153
صحيح البخارى۔جلده ۱۵۳ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا تَطْلُعُ عَلَيْهِ جنت میں ایک کمان برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ وَقَالَ لَغَدْوَةٌ أَوْ ہے جن پر سورج چڑھتا اور غروب ہوتا ہے، اور آپ رَوْحَةٌ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِّمَّا تَطْلُعُ نے یہ بھی فرمایا: اللہ کی راہ میں صبح کو نکلنا اور شام کو کھلنا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج چڑھتا اور عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ۔طرفه ٣٢٥٣ غروب ہوتا ہے۔٢٧٩٤ : حَدَّثَنَا قَبِيْصَةُ حَدَّثَنَا ۲۷۹۴ قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوحازم سے، ابْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّوْحَةُ حضرت سہیل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی وَالْعَدْوَةُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنَ کہ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں صبح اور شام کو نکلنا الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا۔اطرافه: ۲۸۹۲، ۳۲۵۰، ٦٤١٥۔دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔تشریح: اَلْعَدْوَةُ وَالرَّوْحَةُ فِی سَبیلِ اللهِ: یہ باب بھی جہادی کی فضیلت سے متعلق ہے سبیل اللہ میں صبح یا شام نکلنے سے مراد جہاد ہے اور اس کی جزا خَیرٌ مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بَالَی گئی ہے۔قَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ۔جنت میں کمان بھر جگہ ملنے سے جنت کے حصول کی فضیلت اور اس کی اس وسعت کا بیان ہے جس کا ذکر سابقہ باب میں کیا گیا ہے۔زیر باب تینوں روایتیں ایک ہی مفہوم میں مختلف سندوں سے مروی ہیں۔ابن ماجہ مسلم اور ترندی ہونے بھی اس حدیث کے ہم معنی روایتیں نقل کی ہیں جن میں سے بعض بلحاظ سند کمزور ہیں۔حضرت امام بخاری کی تحقیق میں یہ حدیث مستند ہے۔(عمدۃ القاری جزی۴ صفحه ۹۱-۹۲) (مسلم، كتاب الإمارة، باب فضل الغدوة والروحة في سبيل الله) (ترمذی، کتاب فضائل الجهاد، باب ما جاء في فضل الغدو والرواح في سبيل الله) (ابن ماجه، کتاب الجهاد، باب فضل الغدوة والروحة في سبيل الله)