صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 151 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 151

صحيح البخارى۔جلده ۱۵۱ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير شخص جو اللہ کی رضا کے پیچھے چلتا ہے، اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو اللہ کی طرف سے ( نازل ہونے والے) غضب کو لے کر لوٹے اور جس کا ٹھکانہ جہنم ہو۔اور وہ جگہ رہنے کے لحاظ سے ) بہت بری ہے۔وہ ( لوگ اللہ کے نزدیک مختلف مدارج پر ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں، اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔(آل عمران : ۱۶۳ ۱۶۴) تفاوت درجات سے متعلق اس آیت کے حوالے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ درجات کے حصول کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ایک مجاہد رضائے الہی کا خواہاں ہے اور ایک غازی کی نیت مال غنیمت کا حصول، کسی شہرت و نمود اور جو ہر شجاعت کی داد لینا ہے۔غرض نیت کے فرق سے درجے میں بھی فرق ہوگا۔یہی اہم نکتہ ذہن نشین کرانے کی غرض سے سبیل اللہ کی لغوی تشریح بھی کی گئی ہے کہ سبیل اللہ میں جہاد کرنے والے کا نصب العین صرف ایک ہی امر ( رضوانِ الہی سے وابستہ ہوتا ہے۔جس جہاد کی دعوت اسلام نے دی ہے وہ خالص توحید الہی پر مبنی اور ہر قسم کے شرک کی آمیزش سے خالی ہے۔فرماتا ہے : قُلْ هَذِهِ سَبِيْلِی ادْعُوا إِلَى اللهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَنَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ) (يوسف: ۱۰۹) یعنی تو کہہ دے کہ یہ میرا طریق ہے۔میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں۔میں خود اور وہ نفوس جنہوں نے بچے طور پر میری پیروی اختیار کی ہے ہم سب بصیرت پر قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ سب قسم کے نقائص سے پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔قرآن مجید میں اس سبیل اللہ کی تفصیلات مختلف مقامات پر بیان ہوئی ہیں۔سبیل اللہ پر قائم ہونے کے معیار سے درجات میں تفاوت ہوگا۔ہر عمل صالح جنت کا ضامن ہے بشرطیکہ رضائے الہی کی نیت سے صادر ہو۔قف زیر باب روایت میں جنت الفردوس کے لئے اَوسَط الْجَنَّةِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اوسط کے معنی ہوتے ہیں سب سے اعلیٰ۔جیسے فرمایا : جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا۔(البقرة : ۱۴۴) ہم نے تمہیں اعلی درجے کی امت بنایا۔اس کے ایک معانی السَّعَةُ یعنی فراخی بھی ہیں۔فردوس وہ مقام ہے جہاں ہر قسم کا میوہ اور نعمت مہیا ہو۔جس جنت کی یہ شان ہو، اسے عربی میں فردوس کہتے ہیں۔بعض شارحین کے نزدیک یہ لفظ رومی، سریانی اور قبطی زبان سے ماخوذ ہے۔(فتح الباری جزء 4 صفحہ ۱۷) سریانی اور قبطی تو سامی زبانیں ہی ہیں جو عند التحقیق عربی کے بگڑے ہوئے لہجے ہیں اور رومی زبان کا تعلق آریہ زبانوں سے ہے۔ام الالسنہ کی تحقیق میں مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر کپورتھلوی ایڈووکیٹ نے تمام زبانوں کا ماخذ عربی ثابت کیا ہے اور یہ وہ نظریہ ہے جسے سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بلحاظ زبان قرآن مجید کی عظمت سے متعلق دلائل کے ضمن میں پیش فرمایا ہے۔جہاں تک لفظ فردوس کا تعلق ہے زجاج جس کا شمار چوٹی کے ادباء میں سے ہے، اس کی تحقیق ہے کہ فردوس ان وادیوں کو کہتے ہیں کہ جہاں ہر قسم کی نباتات پائی جاتی ہوں۔(عمدۃ القاری جز ہم اصفحہ ۹۰) مندرجہ بالا حدیث نبوی میں فردوس انتہائی مقام بتایا گیا ہے جس کے اوپر اور کوئی مقام نہیں سوائے عرش الرحمن کے۔صفت رحمانیت کی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنت کے سو درجوں میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔اس حساب سے اس کی وسعت کئی آسمانوں کی وسعت ہے۔اس وسعت بے پایاں کا ذکر قرآن مجید کی اس آیت میں بھی ہے: سَابِقُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ