صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 150 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 150

صحيح البخاری جلده ۱۵۰ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير النَّاسَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ آپ نے فرمایا: جنت میں سو درجے ہیں۔جن کو اللہ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِيْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نے ان لوگوں کے لئے تیار کیا ہے جو اللہ کی راہ میں مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ جہاد کرنے والے ہیں۔ہر دو درجوں کے درمیان اتنا وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللهَ فَاسْأَلُوهُ فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں۔جب تم اللہ سے الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى مانگنے لگو تو اس سے فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت میں سب سے عمدہ اور جنت میں سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔الْجَنَّةِ أَرَاهُ قَالَ وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ میں سمجھتا ہوں: آپ نے یوں فرمایا کہ اس کے اوپر وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ۔قَالَ رحمن کا عرش ہے اور اس سے جنت کی نہریں بھی نکلتی مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ عَنْ أَبِيْهِ وَفَوْقَهُ ہیں۔اور محمد بن فلیح نے اپنے باپ سے یوں روایت کی : اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔عَرْشُ الرَّحْمَنِ۔طرفه: ٧٤٢٣۔:۲۷۹۱ حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ :۲۷۹۱ موسیٰ بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا کہ ہم سے : ( حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ جریر نے بیان کیا کہ ابورجاء نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت سمرہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی ملے رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَصَعِدَا نے فرمایا: میں نے آج رات (خواب میں ) دو آدمیوں کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آئے اور مجھے لے کر ایک بِي الشَّجَرَةَ وَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ درخت پر چڑھ گئے۔پھر مجھے ایک ایسے گھر میں داخل أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ کیا جو نہایت ہی خوبصورت اور نہایت ہی عمدہ تھا۔میں مِنْهَا قَالَ أَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ نے اس سے زیادہ خوبصورت گھر کبھی نہیں دیکھا۔ان دونوں نے (مجھے) کہا: یہ گھر شہیدوں کا گھر ہے۔الشُّهَدَاءِ۔اطرافه ٨٤٥، ۱۱٤٣، ۱۳۸۶ ، ۲۰۸۵، ٣٢٣٦، ٣٣٥٤، ٠٤٦٧٤ ٦٠٩٦ ٧٠٤٧۔فِى تشریح : دَرَجَاتُ الْمُجَاهِدِينَ في سَبِيلِ اللَّهِ : عنان باب میں مجاہدین کے درجات سے تعلق میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے: آفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللهِ كَمَنْ بَاءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللهِ ومَاؤُهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُه هُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ ، یعنی کیا وہ مل عمدۃ القاری میں اس جگہ " قالا ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۴ صفحہ (۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔