صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 149
صحيح البخاری جلده ۱۴۹ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ہجری میں مُتَطَوَعِین کی ایک فوج تیار ہوئی جس میں بعض صحابہ کرام بھی شامل ہوئے تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رویاء کے مصداق بنیں۔ ان میں سے حضرت ابوذر، حضرت عبادہ بن صامت اور ان کی بیوی حضرت ام حرام بنت ملحان، حضرت شداد بن اوس اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہم قابل ذکر ہیں۔ فتح کے بعد جب غازی قبرص سے کوچ کرنے لگے تو حضرت ام حرام بنت ملحان کی مذکورہ بالا شہادت کا واقعہ پیش آیا اور وہ وہیں دفن ہوئیں۔ ان کی قبر اب تک قبرص میں زیارت گاہ ہے اور وہ پہلی غازی خاتون ہیں جنہوں نے بحری جنگ میں جام شہادت پیا۔ رَضِيَ الله عَنْهَا وَ رَضِيَتْ ( عمدة القارى جزء ۱۴ صفحہ ۸۶-۸۷) اس تعلق میں باب ۸ بھی دیکھئے جس میں ان کی موت شہادت قرار دی گئی ہے۔ بَاب ٤ : دَرَجَاتُ الْمُجَاهِدِيْنَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے درجے يُقَالُ هَذِهِ سَبِيْلِي وَهَذَا سَبِيْلِي۔ قَالَ (عربی زبان میں ) هَذِهِ سَبِيلِی بھی کہتے ہیں اور أَبُو عَبْدِ اللَّهِ غُنَّا وَاحِدُهَا غَازِ ۔ هَذَا سَبِيْلِي بھی۔ (یعنی سَبِيل مذکر اور مؤنث دونوں هُمْ دَرَجَتُ (ال عمران : ١٦٤) لَهُمْ طرح استعمال ہوتا ہے ) ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: غزا کی واحد غَازِ ہے۔ هُمْ دَرَجَاتٌ یعنی ان دَرَجَاتٌ ۔ کے درجات ہیں۔ ۲۷۹۰ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ۲۷۹۰: یحی بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ فليح حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيّ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہلال بن علی سے، ہلال عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نے عطاء بن یسار سے، عطاء نے حضرت ابو ہریرہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ آمَنَ بِاللهِ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا وَبِرَسُوْلِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ اور اس نے نماز سنوار کر ادا کی اور رمضان کے روزے رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ رکھے، اس کا اللہ پر یہ حق ہو چکا کہ وہ اس کو جنت میں يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ جَاهَدَ فِي سَبِيْلِ اللهِ داخل کرے خواہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرے یا اپنے أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيْهَا اس ملک میں ہی رہے جہاں پیدا ہوا ہو۔ صحابہ نے فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ أَفَلَا نُبَشِّرُ کہا: یا رسول اللہ ! کیا لوگوں کو ہم یہ خوشخبری سنائیں؟