صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 148 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 148

صحيح البخاری جلده ۵۶ - كتاب الجهاد والسير قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللہ نکلے ہوئے تھے۔آپ نے پہلی بار والی بات دُہرائی۔أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنَ کہتی تھیں : میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اللہ سے دعا الْأَوَّلِينَ فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَنِ کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔آپ نے فرمایا: تو تو پہلے لوگوں میں شریک ہو چکی۔چنانچہ وہ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَصُرِعَتْ بھی معاویہ بن ابی سفیان کے زمانے میں سمندری عَنْ دَابَّتِهَا حِيْنَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ سفر میں شامل ہوئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو وہ اپنی سواری سے گر کر فوت ہو گئیں۔فَهَلَكَتْ۔اطراف الحدیث :۲۷۸۸: ۲۷۹۹ ،۲۸۷۷، ۲۸۹٤، ۹۲۸۲، ۷۰۰۱ اطراف الحدیث ۲۸۰۰۲۷۸۹، ۲۸۷۸، ۲۸۹۵، ۲۹۲٤، ۶۲۸۳، ۷۰۰۲، تشریح : الدُّعَاء بِالْجِهَادِ وَالشَّهَادَةِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ : باب کا موضوع واضح ہے کہ فریضہ جہاد کے لئے مرد و زن ہر دو مخاطب ہیں۔ہر ایک پر فرض ہے کہ وہ اس میں اپنی اپنی استعداد و قابلیت کے لحاظ سے شریک ہو جیسا کہ آنے والی تفصیلات سے ثابت ہوگا کہ صحابہ کی عورتیں بھی اس میں شریک ہوئیں۔ان میں سے حضرت ام حرائم کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نہ صرف غزوہ مصر میں شریک ہونے کا موقع دیا بلکہ جامِ شہادت بھی پینا نصیب ہوا۔حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں۔قَالَ عُمَرُ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مشار الیہ دعا ان الفاظ میں گزر چکی ہے : اَللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيْلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِى فِي بَلَدِ رَسُولِکَ۔اے اللہ ! مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب کر اور تیرے رسول کے شہر میں میری موت ہو۔(کتاب فضائل المدينة، باب ۱۲ روایت نمبر ۱۸۹۰) ابن سعد ہم نے طبقات کبیر میں یہی روایت ان کی بیٹی حضرت حفصہ سے نقل کی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: اَللَّهُمَّ ارْزُقْنِي قَتْلًا فِي سَبِيْلِكَ وَوَفَاةً فِي بَلَدِ نَيْكَ قَالَتْ قُلْتُ وَأَنَّى ذَلِكَ قَالَ إِنَّ اللَّهِ يَأْتِي بِأَمْرِهِ أَنَّى شَآءَ۔(عمدۃ القاری جز ۴۰ اصفحہ ۸۵) یہ الفاظ امام بخاری کی روایت میں نہیں ہیں حضرت ام حرام کی دعائیں غزوہ و جہاد میں شریک ہونے کی تھیں۔یہ خواہش بتاتی ہے کہ جہاد صرف مردوں ہی کے لئے فرض نہ تھا۔روایت نمبر ۲۷۸۸-۲۷۸۹ میں حضرت ام حرام والے جس غزوہ کا ذکر ہے اس کا تعلق جزیرہ قبرص کی فتح سے ہے۔حضرت عمر نے حضرت معاویہ کو سمندری لڑائی کی اجازت نہیں دی تھی۔بحری لٹیرے ساحلی آبادیوں پر یلغار کرنے کے عادی تھے اور ان کی روک تھام ضروری تھی۔جب حضرت عثمان کی خلافت میں انہیں اجازت ملی تو خلافت کی طرف سے یہ ہدایت بھی دی گئی تھی کہ کسی کو اس میں جبر اشریک نہ کیا جائے۔۲۸ الطبقات الكبرى لابن سعد، ، الطبقة الاولى طبقات البدريين من المهاجرين ذكر استخلاف عمر ، جز ۳۶ صفحه ۳۳۱)