صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 146
صحيح البخاری جلده سَالِمًا مَعَ أَجْرٍ أَوْ غَنِيْمَةٍ۔۱۴۶ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير جنت میں داخل کرے گا، ورنہ اس کو صحیح سالم ثواب کے ساتھ یا غنیمت کے ساتھ لوٹائے گا۔اطرافه ٣٦ ،۲۷۹۷، ۲۹۷۲، ۳۱۲۳، ۷۲۲۶ ٧٢۲۷ ٧٤٥٧ ٧٤٦٣۔تشريح :۔۔۔أَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ : یہ باب سابقہ باب میری کے مضمون ہی کے تسلسل میں ہے۔اس باب کی آیات میں ایک بیع کا ذکر کر کے اس کے بدلے میں ابدی جنت اور فوز عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے۔سابقہ باب میں نفوس و اموال اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنے کی دعوت ہے اور یہاں بھی اموال و نفوس کی قربانی والے مجاہدہ کا ذکر ہے۔دونوں محولہ بالا آیات کا مضمون ایک ہی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ یہاں ایسے مومنوں سے خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے تحت ہیں اور تفرقہ میں ہیں اور جن کی وحدت مفقود ہے اور جن کی صفیں بکھری ہوئی ہیں اور اسی وجہ سے عذاب الیم میں ہیں اور انہیں بتایا گیا ہے کہ اس عذاب الیم سے نجات پانے کی راہ یہ ہے کہ پھر سے ایمان لائیں اور اموال و نفوس کے ذریعہ سے جہاد کریں۔اس سے ان کی کمزوریاں بھی دور کی جائیں گی اور انہیں ابدی جنت دی جائے گی۔کیا ان آیات میں ایسے ہی نام نہاد مومن مراد ہیں جو کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں؟ سورہ صف کی ابتدائی آیات اور اس کے سارے سیاق سے واضح ہے کہ ان کا مصداق منافق تو ہو سکتے ہیں مگر صحابہ کرام پر قطعا چسپاں نہیں ہوسکتیں کیونکہ انہوں نے جو زبان سے کہا تھا وہ عمل سے کر دکھایا۔امام بخاری نے آیت وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ (التوبة: 1) کے تعلق ہی میں اس کے دوسرے ہم معنی ارشاد باری تعالیٰ کا حوالہ بھی دیا ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ زمانہ نبوی والے جہاد کے بعد جہاد کی ضرورت قائم ہے۔جب مسلمان اپنی روحانی اور دنیوی دولت کھو بیٹھیں گے تو جہاد کی برکت ہی سے وہ اپنی چھنی ہوئی متاع واپس لے سکیں گے۔بَاب ٣ : الدُّعَاءُ بِالْجِهَادِ وَالشَّهَادَةِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ مردوں اور عورتوں کا جہاد اور شہادت نصیب ہونے کے لئے دعا کرنا وَقَالَ عُمَرُ اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي اور حضرت عمر نے یہ دعا کی: اے اللہ! اپنے رسول کے شہر میں مجھے شہادت نصیب کر۔بَلَدِ رَسُولِكَ۔۲۷۸۸ - ۲۷۸۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ۲۷۸۸-۲۷۸۹: عبد اللہ بن یوسف نے ہمیں ابْنُ يُوْسُفَ عَنْ مَّالِكِ عَنْ إِسْحَاقَ بتایا۔انہوں نے مالک سے، مالک نے اسحاق بن ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ عبد الله بن ابی طلحہ سے، اسحاق نے حضرت انس بن ابْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت