صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 144 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 144

صحيح البخارى۔جلده سهام سهام | ۵۶ - كتاب الجهاد والسير میں وہ بہت خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کا جواب لطیف ہے کہ تم خواہش تو کرتے ہو ایسے عمل کی جو جہاد کے برابر ہو اور پھر کہتے ہو کہ مجاہد کے لئے اس طرح دعا ئیں کون کر سکتا ہے۔تم سے تو وہ گھوڑا ہی اچھا ہے جو مرغزار میں اپنی غذا کی ہری بھری گھاس دیکھ کر خوشی سے کھیلیں کرنے لگتا ہے۔عربی میں ضرب المثل ہے : اسْتَنْتِ الْفِصَالُ حَتَّى الْقَرْعَى (فتح الباری جزء ۶ صفحه ۸) دودھ چھوڑے ہوئے پچھیرے اُچھلے کو دے یہاں تک کہ ان کی نقل میں وہ بچھیرا بھی چوکڑیاں بھرنے لگا جو لنجا ،لاغر اور بیمار تھا۔یہ مثال اس شخص کی ہے جو بڑوں کی ریس کرے۔یعنی تمہاری حالت تو یہ ہے کہ دعاؤں جیسا کام بھی نہیں کر سکتے ہو اور تعجب سے کہتے ہو کہ ایسا کون کر سکتا ہے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے یہ ہو کہ کوئی ایسا کام بتائیں جو کر کے جہاد کا ساتواب حاصل کروں۔وہ بچھیرا ہی اچھا ہے جو ہری گھاس دیکھ کر اچھلنے لگتا ہے۔جہاد وذکر الہی میں تمہاری روح کی غذا اور دائگی زندگی ہے اور تم اسے حاصل کرنے سے عاجز ہو۔بعض شارحین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ ذکر الہی جہاد سے بھی افضل ہے۔یہ استدلال درست نہیں کیونکہ ہر کام کی فضیلت کا دارومدار حالات پر ہے۔دشمن حملہ آور ہو اور انسان نماز پڑھنے لگ جائے۔ایسے نازک وقت میں نماز کی قیمت صفر ہے۔بَاب ٢ : أَفْضَلُ النَّاسِ مُؤْمِنٌ مُجَاهِدٌ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ اس بات کا بیان کہ تمام لوگوں میں سے افضل وہ مومن ہے جواللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرتا ہی ہے وَقَوْلُهُ تَعَالَى: يَاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر : اے وہ لوگو! جو هَلْ اَدلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمُ ایمان لائے ہو کیا میں تم کو ایسی تجارت بتاؤں جو تم کو مِنْ عَذَابِ اَلِيْهِ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ درد ناک عذاب سے نجات دیدے۔تم اللہ اور اس وَرَسُولِهِ وَ تُجَاهِدُونَ فِي کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سَبِيْلِ اللهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔یہی تمہارے لیے بہتر ذلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمُ اِنْ كُنْتُمْ ہے اگر تم جانو۔اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا تَعْلَمُونَ لا يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ اور تمہیں ایسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ نہریں بہ رہی ہیں اور ایسے پاکیزہ مکانوں میں داخل تَحْتِهَا الْاَنْهرُ وَمَسْكِنَ طَيِّبَةً کرے گا جو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں ہیں۔یہ کشمی منی کی روایت کے مطابق اس جگہ يُجَاهِدُ کا لفظ ہے۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۹ )