صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 143
صحيح البخاری جلده -0 - ١٤ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير اَلسَّائِحُونَ: مُبلغ یعنی زمین پر چل پھر کر کلمتہ اللہ کا اعلان کرنے والے الرَّاكِعُونَ : موحد- عبادت گذار - السَّاجِدُونَ : احکام الہیہ کے فرماں بردار الأمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ: اچھے نمونہ سے نیکی کی تلقین کرنے والے وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ : ناپسندیدہ باتوں سے روکنے والے -4 وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ : عدل و امن قائم کرنے والے یہ آخری تین وصف قدرت و حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔نفوس قدسیہ کے یہ وہ اوصاف ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی سیرت صالحہ کو ظاہر کرتے ہیں۔کتاب الجہاد میں اس مقدس سیرت کے نمونے بیان ہوئے ہیں تا جہاد کا مفہوم اپنے وسیع معنوں میں ذہن نشین ہو جائے۔اس تمہیدی باب کے ساتھ کتاب الجہاد شروع کی گئی ہے اور محولہ بالا آیات اسلامی جہاد کے وسیع تصور کی آئینہ دار ہیں۔أَيُّ الْعَمَلِ أَفضَلُ : اس باب کے تحت چار روایتیں ہیں۔پہلی میں سائل کے سوال کا جواب اس کے مخصوص حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دیا گیا ہے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ اعمال صالحہ میں فضیلت کے لحاظ سے جہاد تیسرے درجہ پر ہے۔کیونکہ جہاد کا بیان کردہ مفہوم ہر نیکی کو اپنے ساتھ شامل رکھتا ہے۔اس تعلق میں کتاب الإیمان باب ۵ و ۲۶ بھی دیکھئے۔وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ : دوسری روایت سے ظاہر ہے کہ دشمن پر فتح وغلبہ حاصل ہونے کے بعد بھی سلسلہ جہاد جاری رہتا ہے۔جِهَادٌ ولِيَّة - اسلام میں جس طرح ہر عمل عمل صالح اسی وقت کہلاتا ہے جب نیت صالح ہو اور اس سے رضائے الہی مطلوب ہو۔اسی طرح جہاد کے لئے بھی یہی شرط ہے۔اس تعلق میں کتاب الایمان باب ام بھی دیکھئے۔أَفْضَل الْجِهَادِ حَجٌ مَّبْرُورٌ : تیسری روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دریافت کرنے پر جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج مبرور کو افضل الجہاد قرار دیا ہے۔اس سے جہاں جہاد کے مفہوم کی وسعت دکھانا مقصود ہے، وہاں یہ سمجھانا بھی مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سائلین کو حسب حال و مناسب موقع جواب دیا ہے اور افضلیت کا مفہوم نسبتی امر ہے۔اس تعلق میں کتاب مواقیت الصلاۃ باب ۵ بھی دیکھئے۔هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَكَ فَتَقُومَ وَلَا تَفْتُرَ وَتَصُومَ وَلَا تُفْطِرَ : چوتھی روایت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جہاد میں شامل نہ ہو سکنے والے کا فرض ہے کہ وہ مختلف ہو کر مجاہد کے لئے دعاؤں میں مشغول ہو جائے۔إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِى طِوَلِهِ فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ : طِوَلٌ کے معنی ہیں وہ لمبی رسی جس سے گھوڑا وغیرہ جانور اس غرض سے باندھا جاتا ہے کہ وہ چراگاہ میں کھلا چرے اور اپنی خوراک کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک نہ جائے۔اِستان کے معنی ہیں بچھیرے کا خوشی میں اُچھلنا کو دنا۔(عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۸۲-۸۳) ایسی حالت